’اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے والی خواتین کو واپس بھیج دیا‘

کین فلم فیسٹیول تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کین فلم فیسٹیول ہر برس فرانس کے جنوبی شہر کین میں منعقد ہوتا ہے

فرانس میں منقعد ہونے والے کین فلمی میلے کی انتظامیہ پر اس بات کے لیے تنقید ہو رہی ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر ایک فلم کی نمائش کے لیے آنے والی ان خواتین کو واپس بھیج دیا جنھوں نے اونچی ایڑی کا جوتا نہیں پہنا تھا۔

یہ خواتین اداکارہ کیٹ بلانچٹ کی نئی فلم ’ کیرل‘ کے پریمئیر کے لیے آئي تھیں اور ان میں بعض ایسی خواتین تھیں جو عمر رسیدہ یا بیمار تھیں۔

’سکرین ڈیلی‘ اخبار کا کہنا ہے کہ میلے کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریڈ کارپٹ پر خواتین کے لیے اونچی ایڑی کا جوتا پہننا لازمی ہے۔

تاہم فیسٹیول کے ڈائریکٹر تھیئری فریموکس نے کہا ہے کہ یہ افواہیں من گھڑت ہیں۔

انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’کین فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ سے متعلق اصول تبدیل نہیں ہوئے اور وہاں تمباکو نوشی ممنوع ہے اور سب کو رسمی لباس پہننا لازمی ہے، تاہم اس میں اونچی ایڑی کے جوتے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘

فیسٹیول کی ویب سائٹ پر ملبوسات سے متعلق ایک بیان میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ مردوں کو ’ کالی ٹائی اور خواتین کے لیے رسمی لباس پہننا لازمی ہے۔‘ ویب سائٹ پر بھی اونچی ایڑی کے جوتے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کین فلمی میلے میں دنیا بھر کے فلم ہدایت کار اور اداکار حصہ لیتے ہیں

سکرین ڈیلی نے سب سے پہلے یہ خبر شائع کی تھی۔ اخبار کو کین فلمی میلے میں ہر برس حصہ لینے والے ایک شخص نے بتایا تھا کہ ایک فلم کی نمائش کے دوران سیدھے جوتے پہننے خواتین کو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔

اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس شخص نے بتایا: ’میری جان پہچان کی بعض خواتین کو اس لیے واپس بھیج دیا گیا کیونکہ انھوں نے بغیر ایڑی کا جوتا پہنا ہوا تھا، انھوں نے خوبصورت سیدھے جوتے پہنے ہوئے تھے نہ کہ ساحلِ سمندر پر پہننے والے جوتے۔۔۔ ان خواتین کی عمر 50 برس کے قریب ہوگی۔ خواتین نے مجھے بتایا کہ انھوں نے جا کر ایڑی والے جوتے خریدے اور پھر واپس آ گئیں۔‘

فلم ہدایت کار آصف کپاڈیا کی دستاویزي فلم گذشتہ ہفتے کے آخر میں میلے میں دکھائی گئی تھی۔ انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کی اہلیہ کو بھی اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے پر روکنے کی کوشش کی گئی لیکن آخر میں ان کو اندر جانے دیا گیا۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں نے ٹوئٹر پرغم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی ادیب کیٹلن موران نے کہا کہ ’اس طرح کی رپورٹیں موصول ہورہی ہیں کہ اونچی ایڑی کا جوتا نہ پہننے والی عام خواتین اور معذور خواتین کو بھی فلم کی دیکھنے کے لیے اندر نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے۔‘

بزفیڈ ویب سائٹ سے منسلک فلم ناقد ایلیسن ولمور نے بتایا کہ فلم اداکارہ ایملی بلنٹ سے ایک پریس کانفرنس میں اس سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’میرے خیال ہر ایک عورت کو بغیر ایڑی کا جوتا پہننا چاہیے۔‘