جیل کی گارڈز سے ڈانس گروپ تک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لڑکیاں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھیں جو کسی نے سوچا بھی نہ ہو

جاپان میں ایم گرلز نامی گروہ پانچ لڑکیوں پر مشتمل ہے جو جنوبی یاماگوچی کے علاقے میں ایک جیل میں کام کرتی ہیں۔

کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق ان گارڈز کی عمریں 21 سال سے 33 سال کے درمیان ہیں اور وہ رنگ برنگے کپڑے پہنتی ہیں اور گذشتہ برس مقامی کیراؤکی مقابلے میں حصہ لینے کے بعد وہ جیل کے اندر اور باہر وہ بہت مقبول ہوئی ہیں۔

ایم گرلز کی لیڈر جو کہ اپنی ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کہتی ہیں کہ ’ہم نے مقامی رہائشیوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لیے ہیں اور میرے خیال میں لوگ اب جیل کے گارڈز کے قریب آ گئے ہیں۔‘

ڈانس گروپ کا خیال سب سے پہلے جیل کی پہلی خاتون مینیجر کے دماغ میں آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم کچھ ایسا کرنا چاہتے تھے کہ آپ سوچ بھی نہ سکیں کہ جیل کبھی اس کی کوشش بھی کرے گا۔‘

اس جیل میں 800 کے قریب خاتون قیدی رکھی جا سکتی ہیں اور یہ جاپان میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن خواتین گارڈ کو مستقل نوکری پر رکھنا ایک مسئلہ تھا۔ وزارتِ انصاف کا کہنا ہے ان میں سے تین چوتھائی تین سال سے بھی کم عرصے میں نوکری چھوڑ دیتی ہیں، جو کہ مرد گارڈز کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ حکومت اگلے تین برسوں میں پورے ملک میں 200 خواتین جیل گارڈز کو ملازمت دینا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں