بوڑھوں کو سنیما یاد ہے، جوانوں کو پتہ ہی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Haziq Qadri
Image caption سرینگر میں کم سے کم تین سینما گھر بھارتی سکیورٹی فورسز کے زیرِ استعمال ہیں

سلمان خان کی ’بجرنگي بھائي جان‘ ہو یا شاہد کپور کی ’حیدر‘ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ ان فلموں کی شوٹنگ دیکھ سکتے ہیں اور موقع ملے تو ہندی فلموں میں کام بھی کر سکتے ہیں، لیکن انھیں سنیما میں جا کر نہیں دیکھ سکتے۔

کشمیر کے بڑے بوڑھے آج بھی وہ دور یاد کرتے ہیں جب یہاں نئی فلمیں ریلیز ہونے پر سینما گھروں کے باہر لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں.

ایک وقت کشمیر میں 11 سنیما ہال تھے جن میں سے آٹھ تو صرف سری نگر میں ہی تھے۔

شدت پسندی کے آغاز کے بعد تمام سنیما ہال بند ہو گئے کیونکہ ان کے مالکان کو دھمکیاں ملنے لگی تھیں اور سنیما پر پابندی لگانے کے فتوی جاری کیے جانے لگے تھے۔

یہاں کی نئی نسل کے ذہن میں ان سنیما ہالز سے وابستہ یادیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

1990 کی تبدیلی والے دہائی میں یا اس کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان کہتے ہیں کہ انہیں کشمیر کے سنیما ہالز کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UTV
Image caption وشال بھردواج کی فلم ’حیدر‘ کی بیشتر شوٹنگ کشمیر میں ہی ہوئی ہے

سرینگر میں رہنے والے 23 سالہ شاکر حسین خود کو فلموں کا دیوانہ بتاتے ہیں۔ وہ اپنے لیپ ٹاپ پر روز ایک یا دو فلمیں دیکھتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میں اکثر سوچتا ہوں کہ بڑے پردے پر فلم دیکھنا کیسا لگتا ہوگا۔‘

شاکر بھلے ہی کبھی سنیما ہال نہ گئے ہوں لیکن ان کے والد حسین اپنے جوانی کے ان دنوں کو اب بھی یاد کرتے ہیں جب وہ وادی کے دو مشہور سنیما ہالز ’شیراز‘ اور ’خيّام‘ میں فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے۔

بی بی سی ہندی کے لیے صحافی حاذق قادری سے بات کرتے ہوئے حسین نے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’ہم چار دوست تھے اور ہم ہر ماہ دو یا تین فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ بہت مزا آتا تھا۔‘

کشمیری سنیما پر تحقیق کرنے والے شاہنواز خان کہتے ہیں، ’اب کشمیریوں کی فکر اور ترجیحات دوسری ہیں۔ نئی نسل نے سنیما دیکھا ہی نہیں ہے اس لیے وہ اس کی کمی بھی محسوس نہیں کرتی۔‘

1990 کی دہائی سے پہلے کشمیر میں سنیما کا بڑا کاروبار تھا۔ اس دور کے مشہور سنیما ہال ناز، پیلیڈیم، نیلم، فردوس، خيام وغیرہ اب یا تو سنسان پڑے ہیں یا کھنڈرات بن چکے ہیں۔

Image caption نئی نسل کے ذہن میں ان سنیما ہالز سے وابستہ یادیں نہ ہونے کے برابر ہیں

اس دہائی کے آخر میں سرینگر میں نیلم، براڈوے اور ریگل جیسے سینما گھروں نے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی لیکن شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے انہیں بند کرنا پڑا۔

1999 میں جب ریگل سنیما دوبارہ کھلا تو اس کے پہلے ہی دن ہال کے باہر دستی بم کا دھماکہ ہوا جس کے بعد سے یہ بند پڑا ہے۔

سرینگر میں کم سے کم تین سینما گھر بھارتی سکیورٹی فورسز کے زیرِ استعمال ہیں۔

1990 کی دہائی میں ان کے بند ہو جانے کے بعد سکیورٹی فورسز انھیں بطور کیمپ یا بنکر کے استعمال کرے لگیں اور شمالی کشمیر کے سوپور کا ’ كاپڑا‘ سنیما ہو یا بارہ مولا کا ’تھمايا‘ ان کا استعمال سکیورٹی فورسز ہی کر رہی ہیں۔