جینیفر لوپیز کا کانسرٹ، مراکش وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جینیفر لوپیز نے جمعہ کو 160 ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے پرفارمنس دی تھی

مراکش کے وزیر اعظم بنكيران نے رباط میں امریکی گلوکارہ جینیفر لوپیز کے کانسرٹ کو ٹی وی پر دکھائے جانے کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

جینیفر لوپیز نے پچھلے ہفتے ایک لاکھ 60 ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے پرفارمنس دی تھی۔ یہ فیسٹیول معمولی تاخیر کے ساتھ 2ایم پبلک ٹی وی نیٹ ورک پر دکھایاگیا تھا۔

مراکش کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ لوپیز کا کانسرٹ ٹی وی پر دکھانا ایک ’سنجیدہ غفلت‘ تھی اور امریکی گلوکارہ کی پرفارمنس میں ’شرمناک حرکات‘ تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کانسرٹ کو ٹی وی پر دکھانا ملک کے آڈیو ویژوئل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے جینیفر لوپیز کے کانسرٹ کے بعد ملک کے وزیر برائے مواصلات کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ موازین فیسٹیول میں جینیفر لوپیز کی پرفارمنس غیر مہذب تھی۔

وزیر برائے مواصلات مصطفیٰ خلفی نے یہ پرفارمنس ٹی وی پر لائیو دکھائے جانے کی اجازت دی تھی جس کے باعث ان پر تنقید کی جا رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مصطفیٰ نے مستعفی ہونے کے مطالبے رد کر دیے ہیں۔

مقامی میڈیا نے جینیفر لوپیز کو ان کی حرکات اور لباس کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کئی رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ اجلاس طلب کیا جائے جس میں اس بات پر بحث کی جائے کہ کیا یہ فیسٹیول ٹی وی پر دکھایا جانا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں