بالی وڈ اور کشمیر: ’ہماری کہانی نہیں دکھاتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گذشتہ 25 سال سے سینیما گھر بند ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے بننے والے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے اقتدار سنبھالتے ہی ممبئی کا رُخ کیا اور وہاں اداکاروں اور فلم سازوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی۔

اس دعوت کا اثر نمایاں تھا۔ جلد ہی نصف درجن سے زائد فلم یونٹ کشمیر میں خیمہ زن ہو گئے۔ سلمان خان کی نئی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی بیشتر شوٹنگ وادی کے خوبصورت مقامات پر ہوئی۔

کشمیر میں بالی وڈ پر عام لوگوں کا اعتراض کیوں؟

بوڑھوں کو سینیما یاد ہے، جوانوں کو پتہ ہی نہیں

کئی دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ واشو بھگنانی کی نئی فلم ’ویلکم ٹو کراچی‘ کشمیر میں شوٹ نہ ہونے کے باوجود یہیں سے پروموٹ کی گئی۔ فلم کے اداکار جیکی بھگنانی اور اداکارہ لورین نے کہا: ’کشمیر کے لوگوں کو بالی وڈ کےساتھ جُڑنا چاہیے۔ یہاں کے لوگ باصلاحیت بھی ہیں اور خوبصورت بھی۔‘

کئی فلم سازوں نے تو اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ یہاں سینیما گھروں میں فوج یا فورسز اہلکاروں کے مورچے لگے ہیں۔ ان ویران عمارتوں میں کبھی بھارتی اور مغربی سینما کی شاہکار فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2009 میں اداکارہ جوہی چاولا اور منیشا کوئرالہ کی فلم ’میگھنا‘ کی شوٹنگ سری نگر میں ہوئی

سرینگر میں کرن نگر کے رہائشی محمد امین کہتے ہیں: ’سینیما تو تفریح کے لیے ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں ماتم ہے۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، ہزاروں لاپتہ ہیں۔ لڑکوں کو پولیس پکڑتی ہے اور کھیتوں میں فوج ہے۔ ہم کیا فلم دیکھیں گے۔ نہیں نہیں، ہم کو سینیما کی ضرورت نہیں ہے۔‘

لیکن بعض حساس حلقوں کو شکایت ہے کہ بھارتی سینیما نے کشمیر کے خوبصورت مناظر پر مبنی فلمیں تو بنائیں لیکن ان میں کشمیریوں کی یا تو کردارکُشی کی گئی یا غلط تصویر پیش کی گئی۔

ڈل گیٹ علاقے کے شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’ہم فلموں میں اپنی زمین یا پہاڑ نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ لوگ تو ہماری کہانی نہیں دکھاتے۔‘

خاور جمشید لائن پروڈیوسر ہیں۔ وہ یہاں آنے والے فلم یونٹوں کی تکنیکی معاونت کرتے ہیں۔ خاور کا کہنا ہے کہ بالی وڈ کا رشتہ کشمیر کے ساتھ مستحکم ہو جائے تو یہ روزگار کا بڑا ذریعہ ثابت ہو گا۔

لیکن اصل مسئلہ نمائندگی کا ہے۔

اداکارہ دیپتی نول کہتی ہیں کہ بالی وڈ جان بوجھ کر کشمیر کو نظرانداز نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا ہے: ’ہماری فلمیں محبت کے قصوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ہیرو اور ہیروئن کشمیر آئے، گانا گایا اور چلے گئے۔ اس میں تو کشمیری یا تو شکارا والے یا پھر ٹیکسی ڈرائیور کے طور نظر آئے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Haziq Qadri
Image caption ان ویران عمارتوں میں کبھی بھارتی اور مغربی سینیما کی شاہکار فلمیں دکھائی جاتی تھیں

دیپتی نول کہتی ہیں کہ کشمیریوں کو خود آگے آ کر اپنی کہانی تحریر کرنا ہو گی۔ ’یہاں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرین پلے لکھنے کے لیے ورکشاپس منعقد کی جا سکتی ہیں۔ جب یہاں سے ایک جاندار کہانی سامنے آئے گی تو پروڈیوسر فلم بنائیں گے۔ پھر آپ کو پردے پر یہاں کے پہاڑ اور جھیلیں ہی نہیں بلکہ یہاں کی زندگی بھی نظر آئے گی۔‘

واضح رہے کہ 25 سال سے یہاں کے سینیما گھر بند ہیں اور علیحدگی پسندوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سینیما کی بحالی کی مخالفت کریں گے۔

لیکن انٹرنیٹ اور ٹی وی پر یہاں کے نوجوان بھارت اور پاکستان کے ساتھ ایران، ترکی، مشرقی یورپ اور امریکہ کی فلمیں شوق سے دیکھتے ہیں۔

یہاں ایسی فلمیں زیادہ چلتی ہیں جن میں مقامی زمینی حقائق کی طرف برملا اشارے ہوتے ہِیں۔ وشال بھاردواج کی فلم ’حیدر‘ اس کی تازہ مثال ہے۔ اس فلم میں شاہد کپور کا وہ منظر نوجوانوں میں بہت مقبول ہے جس میں ’ہم کیا چاہتے ہیں، آزادی‘ کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں