جوریسک ورلڈ کا ریکارڈ توڑ آغاز، پہلے ویک اینڈ پر 50 کروڑ ڈالر کمائی

تصویر کے کاپی رائٹ Universal Pictures

جوریسک پارک سیریز کی چوتھی فلم ’جوریسک ورلڈ‘ نمائش کے ابتدائی دو دن میں باکس آفس پر 50 کروڑ ڈالر کا کاروبار کرنے والی پہلی فلم بن گئی ہے۔

یہ فلم جمعے کو دنیا کے 66 ممالک میں ریلیز کی گئی اور تمام ممالک میں یہ ہفتے کی مقبول ترین فلم ثابت ہوئی ہے۔

ایگزبیٹر ریلیشنز نامی کمپنی کے مطابق فلم نے ابتدائی دو دن امریکہ میں 20 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کا کاروبار کیا جبکہ چین سے اسے دس کروڑ اور برطانیہ اور آئرلینڈ سے دو کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی آمدن ہوئی۔

اس طرح دنیا بھر سے فلم کی پہلے ویک اینڈ پر آمدن 51 کروڑ 18 لاکھ ڈالر رہی۔

دنیا بھر سے 50 کروڑ سے زیادہ رقم کمانے کے باوجود یہ امریکہ میں پہلے تین دن میں سب سے زیادہ رقم کمانے کا ریکارڈ نہیں توڑ سکی۔

یہ ریکارڈ ’دی ایونجرز‘ نے سنہ 2012 میں 20 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کما کر بنایا تھا۔

جوریسک ورلڈ کے شریک پروڈیوسر ہالی وڈ کے مایہ ناز ہدایت کار اور فلمساز سٹیون سپیل برگ ہیں جبکہ اس کی ہدایات کولن ٹریوورو نے دی ہیں۔

سپیل برگ نے جوریسک سیریز کی ابتدائی دو فلموں کی ہدایات دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایگزبیٹر ریلیشنز نامی کمپنی کے مطابق فلم نے ابتدائی دو دن امریکہ میں 20 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کا کاروبار کیا

ایگزبیٹر ریلیشنز سے وابستہ تجزیہ کار جیف بوک کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو ڈائنوسازوں کو اصل سپر ہیرو قرار دینا چاہیے۔ یہ آئرن مین، سپر مین یا بیٹ مین جتنے ہی بڑے ہیرو ہیں۔‘

جوریسک پارک سیریز کی پہلی فلم 1993 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس نے دنیا بھر میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کیا تھا۔

اس فلم میں ایک ایسے تھیم پارک کی کہانی بیان کی گئی تھی جس میں ڈائنوساروں کو کلون کر کے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔

اس کے چار برس بعد سیریز کی دوسری فلم جوریسک پارک: دی لوسٹ ورلڈ نمائش کے لیے پیش کی گئی جبکہ 2001 میں جوریسک پارک تھری سامنے آئی جو شائقین اور ناقدین دونوں کو پسند نہیں آئی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیریز کی چوتھی فلم کی فقیدالمثال کامیابی نے اس فرنچائز کو ڈائنوساروں کے نئی نسل کے مداحوں کے لیے دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں