ایک فلم، 11 ہدایت کار

تصویر کے کاپی رائٹ s kamath
Image caption اس فلم کا کچھ حصہ جنوبی ایشیا فلمی میلے کے دوران دکھایا گیا تھا

کہتے ہیں کہ دو ملاؤں میں مرغی حرام ہو جاتی ہے، لیکن اگر ایک دو نہیں بلکہ 11 ہدایت کار مل کر ایک فلم بنائیں تو کیسا ہو؟

اس خیال کو حال ہی میں فلم ’ایکس‘ (X) میں حقیقت کا جامہ پہنایا گیا ہے۔

ہرچند کہ بھارت میں پہلے بھی ایسی فلمیں آئی ہیں جن میں ایک سے زیادہ ہدایت کار رہے ہیں جیسے فلم ’بازی گر‘ اور ’ریس‘ کی ہدایت دو بھائیوں عباس اور مستان نے دی تھی۔

اس کے علاوہ علیحدہ علیحدہ کہانیوں پر بننے والی کسی فلم کی ہدایت میں بھی کئی ہدایت کار نظر آئے جیسے’دس کہانیاں‘ اور ’بامبے ٹاکیز۔‘ ان میں ہر کہانی مختلف تھی اور ہر کہانی کے ڈائریکٹر بھی مختلف تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ h gaba
Image caption ہیمنت گابا کہتے ہیں کہ فلم کھچڑی نہیں بنی کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں

فلم’ایکس‘ کے 11 میں سے ایک ڈائریکٹر دہلی کے ہیمنت گابا ہیں جنھوں نے اس سے پہلے ’شٹل كاك بوائز‘ نامی فلم بنائی تھی۔ انھوں نے بتایا: ’ہر ہدایت کار کو ایک ہی کہانے کے مختلف سٹائل، حصے، اور تخلیق کے طریقہ کار دیے گئے ہیں۔ تاہم کہانی میں ایک ہی کردار ہے اور اس کردار کو رجت کپور نے نبھایا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’اس میں فلیش بیک یعنی کہانی کو یادوں میں دکھایا گيا ہے۔ مرکزی کردار کی زندگی کے مختلف مرحلے ہیں، جن میں سے ہر مرحلہ یا یاد ایک ایک ہدایت کار کی ذمہ داری ہے۔‘

اس تجرباتی فلم میں مختلف ریاستوں سے ہدایت کار آئے ہیں، جیسے دہلی، مہاراشٹر، بنگال، آسام اور تمل ناڈو۔

Image caption سورا بتاتی ہیں کہ فلم بہت دلچسب ہے اور ان کی کہانی سب سے آخر میں آتی ہے

اس فلم کے ہدایت کاروں میں دہلی کے ہیمنت گابا، کولکتہ کے کیو (کوشک مكھرجي)، ابھینو شیو تیواری، انو مینن، نلن كمارسامي، پرتم گپتا، راجہ سین اور راجشري اوجھا، جنھوں نے اس سے پہلے فلم ’عائشہ‘ بنائی تھی، سندیپ موہن ، سدھيش کامت اور سپرن ورما شامل ہیں۔

فلم میں رجت کپور کے علاوہ سورا بھاسکر، ہما قریشی اور رادھیکا آپٹے بھی ہیں۔

یہ ہدایت کار مختلف زبانوں میں فلم بناتے ہیں اس لیے اس فلم میں بھی ہندی، تمل، بنگالی اور انگریزی جیسی مختلف زبانوں کا استعمال ہوا ہے۔

سورا بتاتی ہیں: ’یہ ایک بہت دلچسب فلم ہے۔ میری کہانی سب سے آخر میں آتی ہے۔ کہانی کی ہدایت کاری تمل فلموں کے ڈائرکٹر نلن كمارسامي نے کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس فلم میں ہما قریشی نے بھی اداکاری کی ہے

سورا کہتی ہیں: ’یہ میری پہلی تمل فلم ہے۔ میرے پاس سدھيش کامت یہ پیش کش لےکر آئے تھے اور یہ انھی کے ذہن کی اختراع ہے کہ 11 دماغ مل کر ایک فلم بنائیں۔ سدھيش کامت نے ایک حصے کی ہدایت کی ہے۔‘

اس فلم کے دوسرے ہدایت کار کولکتہ کے کیو بتاتے ہیں کہ چونکہ اس میں 11 لوگوں نے کام کیا تو مختلف نظریات سامنے آئے۔

انھوں نے کہا: ’جب اتنے لوگ کام کریں گے تو انفرادی شخصیت، مختلف نظریہ، مختلف سوچ، پیش کش کے مختلف طریقے، یہ سارے مسئلے سامنے آتے ہیں بلکہ سب کی الگ سوچ سامنے آتی ہے، یہی فلم کی خاصیت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Meenal Agarwal
Image caption اس تجرباتی فلم کا مرکزی کردار رجت کپور نے نبھایا ہے

وہ بتاتے ہیں: ’آخر ایک انسان بھی مختلف حالات میں مختلف سوچ رکھتا ہے۔ کہانی کا جو اہم کردار ہے وہ بھی مختلف ہے۔ زندگی بھی ایسی ٹوٹی پھوٹی اور بے تعلق سی ہے۔ جہاں تک خودی کی بات ہے تو اتنا تو سب جانتے ہیں کہ فلم سب سے پہلے آتی ہے باقی ساری باتیں پیچھے۔‘

فلم کے ہدایت کار اور شریک خالق سدھيش کامت بتاتے ہیں: ’اس فلم کا ایک حصہ دکھایا گیا تھا 2014 کے جنوبی ایشیائی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں۔ اب ہم اسے شاید نومبر میں ریلیز کریں۔‘

ہیمنت گابا کہتے ہیں: ’فلم کھچڑی نہیں بنی کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔‘

2013 میں سارے ہدایت کار ملے اور سب نے ایک ساتھ سکرپٹ پر کام کیا اور اس کے بعد سب نے اپنا اپنا حصہ خود ہی شوٹ کیا۔

اسی بارے میں