تئیس برس کے ہوئے ’دیوانے‘ شاہ رخ

تصویر کے کاپی رائٹ KingKhanClub1
Image caption فلم ’دیوانہ‘ کے 23 سال پورے ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی شاہ رخ خان چھائے ہوئے ہیں

یہ بات پوری 23 برس پرانی ہے۔ ’دیوانہ‘ نام کی فلم ریلیز ہوئی تھی۔ کہیں سے اس کی ایک ویڈیو کیسٹ مل گئی تھی جو وی سی آر میں لوگ اس وقت چلا کر دیکھتے تھے۔

بچوں سے بھری ہمارے سکول کی بس پنجاب سے دہلی کے ٹوئر پر تھی۔ طویل سفر کی تھکاوٹ اور بوریت کے سبب بس میں فلم دیوانہ لگائی گئی۔

فلم چلنے کے کچھ وقت تک کچھ خاص ہلچل نہیں ہوئی، کچھ لوگ اس وقت تک آدھی نیند میں تھے اور پھر اچانک سکرین پر ایک نئے ہیرو کی انٹری ہوتی ہے۔

سکرین پر گانا بجتا ہے ’کوئی نہ کوئی چاہیے ۔۔۔ پیار کرنے والا‘۔ اچانک جیسے پوری بس میں بجلی کا کرنٹ سا دوڑ گیا اور ایسا لگا جیسے فلم ابھی شروع ہوئی ہے۔

ڈھیلے کپڑوں میں ملبوس سکرین پر نظر آنے والا یہ دبلا پتلا سا ہیرو تھا۔ ٹی وی دیکھنے والے اسے فوجی جیسے سیریل کی وجہ سے جانتے تھے لیکن بہت سے لوگ اس سے ناواقف بھی تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ فلم کی جان بن گیا۔ نام تھا شاہ رخ خان۔ یہ سنہ 1992 کی بات تھی۔

تیسرا خان

یہ تو صرف آغاز تھا۔ اس کے بعد تو بس یکے بعد دیگرے شاہ رخ خان فلمی پردے پر چھاتے ہی چلے گئے۔ عامر خان اور سلمان خان کے بعد فلم انڈسٹری کو تیسرا خان مل گیا۔ اور شاہ رخ باقی دونوں خانوں کے ساتھ مل کر آج تک فلم انڈسٹری پر ’راج‘ کر رہے ہیں۔

آج فلم ’دیوانہ‘ کے 23 سال پورے ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی شاہ رخ خان چھائے ہوئے ہیں۔

# 23GoldenYearsOfSRK کے نام سے ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔

دیوانہ میں شاہ رخ کے ساتھ کام کر چکے رشی کپور نے ٹویٹ کیا ’آج کے دن 25 جون 1992 کو دیوانہ ریلیز ہوئی تھی۔ تب سے 23 برس ہو چکے ہیں۔ دیویّہ بھارتی، دیوین ورما، امريش پوری اور راج کنور کو یاد کر رہا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ IAMSRK
Image caption ’دیوانہ‘ کے لیے شاہ رخ خان کو پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا جس کے بعد سے وہ کئی بار اسے اپنے نام کر چکے ہیں

فلم ’دیوانہ‘ کو ہدایت کار راج کنور نے ڈائریکٹ کیا تھا، ہیروئن تھیں دیویّہ بھارتی، ولین تھے امريش پوری اور ان تمام افراد کا انتقال ہو چکا ہے۔

پہلا فلم فیئر ایوارڈ

تئیس برس کے اس فلمی سفر میں شاہ رخ نے ملک و بیرون ملک میں کروڑوں مداح بنائے ہیں۔ بطور ہیرو شاہ رخ پہلی بار دیوانہ میں نظر آئے تھے۔ حالانکہ اس سے پہلے 1989 میں ان کی ایک چھوٹی سی جھلک فلم ’ان وچ اینی گیوز اٹ تھوذ ونس‘ میں ملی تھی جس میں اروندھتي رائے نے کام کیا تھا۔ لیکن شاہ رخ ایک آدھ سین میں ہی نظر آتے ہیں۔

پہلی فلم کے بعد سے ان کی مقبولیت مسلسل بڑھتی گئی۔ بیرون ممالک میں ان کے حوالے سے دیوانگی کا عالم بطور صحافی کئی بار میں خود دیکھ چکی ہوں۔ اگرچہ بہت ناظرین ان پر یہ کہہ کر تنقید بھی کرتے آئے ہیں کہ شاید عامر خان کی طرح ان کی ادائیگی میں پختگی اور تنوع نظر نہیں آتا۔

تاہم بات فلم ’دیوانہ‘ کی ہو رہی ہے تو اس فلم کے لیے شاہ رخ خان کو پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا جس کے بعد سے وہ کئی بار اسے اپنے نام کر چکے ہیں۔

اس وقت گذشتہ برس 25 جون کو شاہ رخ نے جو ٹویٹ کیا تھا وہ یاد آتا ہے ’میں نے آج تک دیوانہ نہیں دیکھی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی پہلی اور آخری تخلیق نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ بک اینڈز کی طرح ہوتی ہیں، کہانی تو ان کےدرمیان میں ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں