’اداس نسلیں‘ کے خالق عبداللہ حسین انتقال کر گئے

Image caption عبداللہ حسین نے ناول اداس نسلیں کو عالمی شہرت ملی

نامور پاکستانی ناول نگار اور مصنف عبداللہ حسین طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی عمر 84 برس تھی اور وہ خون کے کینسر میں مبتلا تھے۔

عبداللہ حسین کے قریبی رشتہ دار خواجہ سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کا انتقال سنیچر کی صبح نو بجے ہوا۔

عبداللہ حسین نے باگھ، فریب، نشیب اور نادار لوگ جیسے کئی مقبول ناول تحریر کیے لیکن ان کی اصل وجۂ شہرت ان کا پہلا ناول ’اداس نسلیں‘ بنا جسے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت پذیرائی ملی۔

سنہ 2014 میں ان کے اس شہرۂ آفاق ناول کے پچاس برس مکمل ہوئے تھے۔

اس موقع پر بی بی سی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ جب سے ’اداس نسلیں‘ لکھی گئی اس وقت سے اس کتاب کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے۔

ادب کے لیے عبداللہ حسین کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 2012 میں پاکستان کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ’ کمالِ فن‘سے نوازا تھا جبکہ ’اداس نسلیں‘ پر انھیں آدم جی ایوارڈ بھی ملا تھا۔

عبداللہ حسین کی نماز جنازہ سنیچر کو ہی ڈیفینس کے علاقے میں واقع اُن کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی۔

نماز ِجنازہ میں عطا الحق قاسمی ، اصغر ندیم سید ، اِنتظار حسین، امجد سلام امجد اور مرزا اطہر بیگ سمیت علم و ادب سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ عبداللہ حسین کے پہلے ہی ناول اُداس نسلیں نے پورے برصغیر کی ادبی تاریخ میں تہلکہ مچا دیا تھا کیونکہ اُن کا یہ ناول برصغیر کی سماجی اور سیاسی تاریغ کا احاطہ کرتا ہے۔

اصغر ندیم سید نے کہا کے عبداللہ حسین کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اُن کے تحریروں میں سچائی اور حقیقت ہے اور اُس میں زندگی کے حقائق کا بہت قریب سے تجربہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُردو ادب آج ایک بہت بڑے لکھاری سے محروم ہو گیا ہے۔

Image caption عبداللہ حسین کی نماز جنازہ سنیچر کو ہی ڈیفینس کے علاقے میں واقع اُن کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی

امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ عبداللہ حسین جیسا نام اب اِس دُنیا میں کم ہی نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں پڑھنے ولے نسبتا کم ہیں اور کتابیں بھی کم بکتی ہیں وہاں پچاس برس تک لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا بہت بڑا کارنامہ ہے اور عبداللہ حسین اُن چند افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے یہ کانامہ انجام دیا۔

امجد اسلام امجد نے کہا کہ نئی نسل کے افسانہ نگار بھی عبداللہ حسین کی تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور جب تک اُردو لکھنے اور پڑھنے والے باقی ہیں وہ عبداللہ حسین کو ہمیشہ محبت سے یاد رکھیں گے۔

اسی بارے میں