عید اور سلمان کا ساتھ اور بہوبلی پردۂ سیمیں پر

تصویر کے کاپی رائٹ spice pr
Image caption سلمان خان کے مطابق وہ اپنی آنے والی فلم کے نام کے حوالے سے تنازع سے پریشان نہیں

’ہم تو جشن منانے کا موقع ڈھونڈتے ہیں‘

سلمان خان آج کل عید پر ریلیز ہونے والی اپنی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں۔

سنیے بالی وڈ راؤنڈ اپ

سلمان خان کی تقریباً ہر بڑی فلم عید کے موقع پر ہی ریلیز ہوئی ہے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ فلموں کی ریلیز کے حوالے سے عید ان کے لیے اہم کیوں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے عید، دیوالی، نوراتری سب اہم ہیں۔ ہم تو جشن منانے کا موقع ڈھونڈتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عید پر سب سے زیادہ مزہ آتا ہے کہ چھٹی ملتی ہے اور پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوتا ہے۔ ممی کھانا بناتی ہیں اور بہت بڑا جشن ہوتا ہے۔‘

اس سوال پر کہ فلم کے نام پر مذہبی گروپوں کا اعتراض ان کے لیے کتنا پریشان کن ہے، سلمان بولے کہ ’نہیں میں اس بارے میں پریشان نہیں۔ میرے خیال میں تو کوئی مذہبی گروپ ایسی بات نہیں کرے گا کیونکہ اگر وہ مذہبی گروپ ہے تو ضرور یہ جانتا ہو گا کہ ہر مذہب دوسرے مذہب کا احترام کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Spice PR
Image caption ’بہوبلی‘ دیکھنے والے شائقین کا بھی اس کے بارے میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا ہے

بھارتی تاریخ کی سب سے مہنگی فلم

’بہوبلی‘ کے لیے بھارتی سنیما کے شائقین کا انتظار ختم ہوا اور بالی وڈ کی تاریخ کی یہ سب سے مہنگی فلم جمعے کو ریلیز کر دی گئی۔

کہا جا رہا ہے کہ تین برس میں مکمل ہونے والی یہ فلم پر ڈھائی ارب روپے لاگت آئی ہے اور اسے چار زبانوں میں ریلیز کیا گیا ہے۔

یہ فلم تمل اور تیلگو میں ساتھ ساتھ بنائی گئی جبکہ اسے ہندی اور مليالم زبانوں میں ڈب کیا گیا ہے۔

عمومی طور پر تو اس فلم کی بہت تعریف ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے ٹکٹ ’ہاٹ کیک‘ کی طرح فروخت ہو رہے ہیں لیکن فلمی ناقد نمرتا جوشی اس خیال سے متفق دکھائی نہیں دیتیں۔

Image caption ہ تین برس میں مکمل ہونے والی یہ فلم پر ڈھائی ارب روپے لاگت آئی ہے اور اسے چار زبانوں میں ریلیز کیا گیا ہے

ان کا کہنا ہے کہ فلم سے یہ تو واضح ہے کہ ہدایتکار ایس ایس راجامولی نے بہت محنت کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیسی محنت کی گئی ہے اس کا پورا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

انھوں نے کہا ’چاہے وہ ویژوئل ایفیکٹس ہوں، فلم کا پروڈکشن ڈیزائن ہو، یا پھر جنگ کے مناظر ہر جگہ پر ہوئی محنت دکھائی دیتی ہے‘ لیکن ’فلم کی ڈبنگ خصوصاً ہندی کے مکالمے کچھ جمے نہیں اور یہ بھی لگتا ہے کہ ایکشن دکھانے میں ہم کہانی کہیں بھول گئے ہیں اور کہانی میں کچھ نیا پن نہیں ہے۔‘

’بہوبلی‘ دیکھنے والے شائقین کا بھی اس کے بارے میں ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔

جہاں ایک شائق کے مطابق اسے فلم کا پہلا نصف سمجھ میں ہی نہیں آیا وہیں ایک اور شائق نے کہا کہ وہ ایک عرصے سے فلم کی منتظر تھی اور یہ ان کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ اچھی ہے۔

Image caption نانا پاٹیکر کا کہنا ہے کہ انھیں سکون ملتا ہے کہ وہ ایسی فلم بنانے میں کامیاب ہوئے

’کسی کا تو نام لینا پڑتا ہے‘

نانا پاٹیکر کی فلم ’ویلکم‘ کا سیکوئل جلد ہی ریلیز ہونے والا ہے اور وہ جہاں ویلکم 2‘ کی ریلیز کے حوالے سے بہت خوش ہیں وہیں انھیں اس کی تیاری میں تاخیر پر کچھ رنج بھی ہے۔

انھوں نے حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس تاخیر کے لیے فلم میں اپنے ساتھی اداکار جان ابراہم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

نانا کا کہنا تھا کہ ’ہماری فلم تیار ہونے والی تھی ایک سال مگر تھوڑی دیر ہوگئی جان کی وجہ سے۔‘

جب پوچھا گیا کہ جان کی وجہ سے کیوں تو نانا ہنستے ہوئے یوں گویا ہوئے ’کسی کا تو نام لینا پڑتا ہے۔‘

نانا پاٹیکر کا کہنا ہے کہ انھیں سکون ملتا ہے کہ وہ ایسی فلم بنانے میں کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کنگنا نے حال ہی میں ایک بلاک بسٹر فلم ’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے

’یہ فلم ہضم نہیں ہوگی‘

سنی دیول اور کنگنا رناوت کی فلم ’آئی لو یو نیویارک‘ کئی تاریخیں تبدیل ہونے کے بعد بالاخر ریلیز ہو ہی گئی۔

یہ وہی فلم ہے جس کی نمائش روکنے کے لیے کنگنا رناوت نے فلمساز کمپنی ٹی سیریز کو قانونی نوٹس بھیجا تھا۔

کنگنا چاہتی تھیں کہ چھ برس قبل بننے والی اس فلم کی نمائش نہ کی جائے کیونکہ ’یہ توقع کے مطابق نہیں بنی تھی۔‘

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس وقت فلم کی نمائش سے ان کی موکلہ کی حالیہ کامیابیوں کو کیش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کنگنا نے حال ہی میں ایک بلاک بسٹر فلم ’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور ان کی اس نئی فلم پر شائقین کے ردعمل سے تو لگ رہا ہے کہ کنگنا کے خدشات بےجا نہیں تھے۔

ایک شائق کا کہنا تھا کہ ’ کنگنا کا کام ٹھیک ہے لیکن تنو ویڈز منو دیکھو تو یہ فلم ہضم نہیں ہوگی۔‘

ایک اور فلم بین نے کہا کہ ’میں بہت مایوس ہوئی ہوں۔ نہ تو فلم کی کہانی پسند آئی نہ ہدایت کاری‘۔

اسی بارے میں