’بجرنگی بھائی جان‘ کی پاکستان میں نمائش کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption یہ فلم ایک ایسے سادہ دل اور مخلص بھارتی شخص بجرنگی کی کہانی ہے جو ایک پاکستانی گونگی بچی کی مدد کرتا ہے

پاکستانی سینسر بورڈ نے کشمیر سے متعلق چند جملے حذف کرتے ہوئے سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی پاکستان میں نمائش کی اجازت دے دی ہے۔

یہ فلم عید سے قبل 17 جولائی کو دنیا بھر میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

یہ اداکار سلمان خان کی وہ پہلی فلم ہے جو انھیں فُٹ پاتھ پر سوئے ہوئے افراد پرگاڑی چڑھانے کے الزام میں سزا دیے جانے کے بعد ریلیز ہو رہی ہے۔

سینسر بورڈ سندھ کے چیئرمین فخرِ عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بجرنگی بھائی جان‘ ایک اچھی اور مثبت فلم ہے اور اس میں پاکستان اور پاکستانیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

انھوں نے کشمیر سے متعلق جملے حذف کرنے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

ذرائع کے مطابق سینسر بورڈ نے جو جملے حذف کیے ہیں ان میں سلمان خان ایک پاکستانی مولوی کو ایک خوبصورت اور سرسبز پہاڑی علاقے کی تصویر دکھا کر اس کا نام معلوم کرتے ہیں تو مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ کشمیر معلوم ہوتا ہے۔

اس پر سلمان کہتے ہیں کہ کیا مجھے وہاں جانے کے لیے واپس ہندوستان جانا ہوگا جس پر مولوی صاحب (اوم پوری) ان سے کہتے ہیں کہ ’نہیں چھوٹا سا کشمیر ہمارے پاس بھی ہے۔‘

پاکستانی سینسر بورڈ نے یہ جملے کاٹ کر فلم ریلیز کرنے کی اجازت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption یہ فلم پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار بھی ہے

یاد رہے کہ اس فلم کے بارے میں کچھ حلقوں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اس فلم کو پاکستان میں ریلیز نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ اس میں پاکستان سے متعلق متنازع معاملات اٹھائے گئے ہیں۔

بجرنگی بھائی جان کی ہدایات کبیر خان نے دی ہیں اور ماضی میں انھی کی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ بھی پاکستان میں ریلیز نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کشمیر کے موضوع پر کچھ عرصہ قبل ریلیز ہونے والی وشال بھردواج کی ’حیدر‘ کو بھی پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں ملی تھی۔

’بجرنگی بھائی جان‘ یہ فلم ایک ایسے معصوم ، انتہائی سادہ دل اور مخلص شخص بجرنگی (سلمان خان) کی کہانی ہے جو ایک ایسی گونگی بچی کی مدد کر رہا ہے جو زیارات پر اپنی ماں کے ساتھ پاکستان سے ہندوستان آئی تھی تاہم وہ اپنی ماں سے بچھڑ جاتی ہے۔

اس فلم میں سلمان خان اس بچی کو اس کے والدین سے ملوانے کے لیے کسی طرح سے پاکستان پہنچتے ہیں اور یہ کہانی ان کی اس جدوجہد کی کہانی ہے جو وہ بچی کو اس کے والدین تک پہنچانے کے لیے کرتے ہیں۔

اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے پاکستان کے لوگ اپنی حیثیت کے مطابق سلمان خان کی مدد کرتے ہیں اور انھیں سہولت فراہم کرتے ہیں تاہم کچھ افراد انھیں جاسوس ہونے کا الزام لگا کر پکڑوانا بھی چاہتے ہیں۔

فلم کا سب سے دلچسپ پہلو ایک پاکستانی ٹی وی رپورٹر چاند نواب کا کردار ہے جو نواز الدین صدیقی نے نبھایا ہے۔ یہ ٹی وی رپورٹر چند برس قبل انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کی وجہ سے مشہور ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ by Spice PR
Image caption کرینہ کپور اس فلم میں اگرچہ مختصر وقت کے لیے جلوہ گر ہوئی ہیں مگر انھوں نے اپنے کردار کا بھرپور اثر چھوڑا ہے

اس فلم میں چاند نواب کا وہی کلپ نئے سرے سےفلمایا گیا ہے ان کا وہ منظرانتہائی دلچسپ اور جاندار ہے۔

فلم کی موسیقی بھی اچھی ہے اور عدنان سمیع خان کی گائی گئی قوالی ’بھر دو جھولی مری یا محمد‘ نے بھی سماں باندھا ہے۔

اس کے علاوہ فلم کے دیگر گانے دھوم دھڑکےکے ساتھ خاص سلمان خان کا انداز اپنائے ہوئے ہیں۔

کرینہ کپور اس فلم میں اگرچہ مختصر وقت کے لیے جلوہ گر ہوئی ہیں مگر انھوں نے اپنے کردار کا بھرپور اثر چھوڑا ہے۔

اس فلم میں مختلف مواقع پر صورتِ حال کے مطابق مزاح بھی ہے اور کہیں کہیں طنز بھی جیسے ایک موقعے پر جب سلمان کو پاکستان جانے سے روکا گیا تو وہ کہتے ہیں ’بجرنگ بلی میری مدد کریں گے‘ جس پر ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا پاکستان میں بھی کریں گے؟‘

یہ فلم پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار بھی ہے۔ اسی تناظر میں اداکارہ زیبا بختیار کا کہنا ہے کہ یہ فلم ’حنا‘ کی طرح کی فلم ہے جو دشمنی کے بجائے دوستی کا درس دیتی ہے۔

اسی بارے میں