’محبت، نفرت اور جذبات کی عکاسی ‘

Image caption اگر روایتی پاکستانی ڈرامے کو بڑے پردے پر دیکھنے کا شوق ستائے تو یہ فلم ضرور دیکھیں

’بِن روئے‘ طویل عرصے کے بعد ایسی پاکستانی فلم ہے جو بیک وقت دنیا کے نو ممالک میں عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی جارہی ہے۔

ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ ، امریکہ، ڈنمارک، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کینیڈا اور سویڈن شامل ہیں جبکہ یہ فلم بھارت کی بھی کئی ریاستوں میں ریلیز کی جا رہی ہے۔

بِن روئے کے بارے میں کچھ لکھنا بہت ہی مشکل ثابت ہوگا یہ نہ سوچا تھا۔ فلم میں ماہرہ خان اور ہمایوں جیسے اداکار ہیں، کریکٹر ایکٹرز میں جاوید شیخ اور زیبا بختیار ہیں، ہم ٹی وی جیسا بڑا ادارہ پیچھے ہو، اس کے ڈائریکٹرز نامور ایوارڈ یافتہ ڈرامے بنا چکے ہوں اور پھر بھی فلم میں کچھ نہ ہو تو حیرت تو ہوگی۔

بِن روئے سے اگرچہ بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں کیونکہ یہ بات بہت پہلے واضح ہوگئی تھی کہ ہم ٹی وی کی یہ پیشکش ایک ٹی وی ڈرامہ تھی جسے بعد میں فلم میں تبدیل کیا گیا۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس فلم کی تیاری کے دوران پانچ ڈائریکٹرز تبدیل ہوئے یا کیےگئے۔

فلم کی کہانی ایک روایتی کہانی ہے جس میں صبا (ماہرہ خان) ارتضٰی (ہمایوں سعید) سے بچپن سے محبت کرتی ہے اور پھر اچانک ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ ارتضیٰ تو اس کی چھوٹی بہن ثمن (ارمینا رانا خان) سے محبت کرتا ہے۔

اس فلم میں محبت، نفرت اور جذبات کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم فلم میں جگہ جگہ کہانی ٹوٹتی رہی ہے۔

اس فلم کو بالکل ڈرامے کے انداز ہی سے بنایا گیا ہے۔ کئی مواقع پر چہروں کو انتہائی کلوز اپ میں میں دکھایا گیا ہے اور کہیں چہرہ ہی نہیں دکھایا گیا جیسے ایک سین میں جب ارتضیٰ (ہمایوں سعید) ثمن (ارمینا رانا خان) سے اظہارِ محبت کر رہا ہوتے ہیں اور صبا (ماہرہ خان) کھڑکی سے سن رہی ہوتی ہیں تو اس پورے سین میں ثمن کا چہرہ ہی نہیں دکھایا گیا ہے۔

Image caption اس فلم میں محبت، نفرت اور جذبات کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم فلم میں جگہ جگہ کہانی ٹوٹتی رہی ہے

یہ کسی بھی طرح سے مصالحہ فلم نہیں ہے، اسی لیے فلم کے پروڈیوسرز اسے فیملی انٹرٹینمنٹ کہہ کر پیش کررہے ہیں۔

اس فلم میں ماہرہ خان کی تعریف نہ کرنا سراسر ناانصافی ہوگی۔ وہ نہ صرف اس فلم میں انتہائی خوبصورت نظر آئی ہیں بلکہ ہر موقع پر اپنی جاندار اداکاری سے فلم میں جان ڈالنے کی پوری کوشش کرتی رہی ہیں۔

فلم میں ارمینا رانا خان نے بھی اپنی اداکاری اور خوبصورتی سے ضرور متاثر کیا اگرچہ ان کا کردار بہت ہی مختصر تھا تاہم انہوں نے پھر بھی ایک اچھا تاثر ہی چھوڑا۔

بِن روئے کے گانے دلچسپ ہیں جن میں ’تیرے بنا جینا‘ راحت فتح علی خان اور ’مولا، مولا‘ عابدہ پروین کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ عابدہ پروین کسی فلم کے لیے پہلی مرتبہ گایا ہے۔ اس کے علاوہ فلم میں بھارتی گلو کاروں ریکھا بھردواج اور انکت تیواری کی آواز میں گانے بھی شامل ہیں۔

اگرچہ اس فلم کا نام ضرور ’بِن روئے‘ ہے مگر یہ فلم رونے دھونے سے بھرپور ہے۔

اگر آپ کو روایتی پاکستانی ڈرامے کو بڑے پردے پر دیکھنے کا شوق ستائے تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔

اسی بارے میں