’رانگ نمبر‘: فلم کم از کم بور نہیں کرے گی

Image caption یاسر نواز کی پہلی فلم تھی اس لیے کچھ ناقدین کے مطابق ان میں بہتری کی گنجائش ضرور ہے

عید الفطر کے موقعے پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’رانگ نمبر‘ کم از کم اس لحاظ سے ضرور بہتر ہے کہ یہ فلم ہی ہے نہ کہ بڑے پردے پر ٹی وی ڈرامہ۔

فلم کی کہانی سلو (دانش تیمور) نامی نوجوان کی ہے جو قصائیوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم اسے اپنے خاندانی کام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اداکار بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ اس کا باپ حاجی ابا (جاوید شیخ) اسے نوکری پر لگانا چاہتا ہے۔

یہ کراچی کے ایک متوسط طبقے کی بہترین عکاسی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے چٹکلے چھوٹتے رہتے ہیں اور گھر والوں کی آپس میں نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے اور حاجی ابا کی گونجدار آواز پر سب لبیک کہتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حاجی ابا کی زور زبردستی سے بچنے کے لیے سلو گھر سے بھاگ جاتا ہے۔

اس فلم کی خاص بات گاہے بہ گاہے پیدا ہونے والی مختلف صورت حال ہیں جن میں اچھا مزاح ہے اور کچھ موقعوں پر بے ساختہ ہنسی بھی آتی ہے۔ تاہم اس فلم میں چند مقامات کے علاوہ کوئی اعلیٰ پائے کا مزاح نہیں ہے۔

دانش تیمور نے جلیبی کی نسبت بہتر کام کیا ہے۔ وہ اپنے ڈبل رول کو نبھانے میں مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے مگر پھر بھی متاثر نہیں کرسکے۔

سوہائے علی ابڑو کا کردار مختصر تھا مگر اس میں بھی وہ اوور ایکٹنگ کرتی ہی دکھائی دیں جبکہ دوسری اداکارہ حیا (جنیتا اسما) کا کردار سوہائے سے تو زیادہ تھا مگر مکالموں کی ادائیگی کافی بے اثر تھی۔

جاوید شیخ نے اپنا کردار انتہائی خوبی سے نبھایا ہے۔ البتہ ان کے گھرانے کے دیگر افراد میں صرف مہ جبیں ہی نمایاں ہوسکیں جنہوں نے ایک چھوٹے لڑکے کی ماں کا کردار ادا کیا ہے جو ہر بات حاجی ابا سے پوچھ کر کرتی ہے۔

اس فلم میں تین بدمعاشوں کا کردار ادا کرنے والے دانش نواز، ندیم جعفری اور عاطف شاہ نے اکثر مواقع پر اچھا مزاح پیش کرکے ناضرین سے داد وصولی۔

تاہم یہی اس کی خرابی بھی ہے کیونکہ چند سین دلچسپ ہونے کے بعد باقی سین بوجھل محسوس ہوئے۔

فلم کے گانے بھی اوسط درجے ہی کے ہیں۔ سلفیاں میں بھی کچھ نیا یا منفرد نہیں ہے۔ سوہائے علی ابڑو کو رقص میں کافی محنت کی ضرورت ہے۔

یاسر نواز جو اس فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہیں اس سے پہلے کئی مقبول ٹی وی ڈرامے بنا چکے ہیں۔ یہ ان کی پہلی فلم تھی اس لیے کچھ ناقدین کے مطابق ان میں بہتری کی گنجائش ضرور ہے۔

اگر اس فلم کی تعریف کی جائے تو یہ کہنا ضروری ہوگا کہ یہ فلم کم از کم بور نہیں کرے گی کیونکہ یہ ایک روایتی فارمولا کامیڈی فلم ہے۔

اسی بارے میں