پشتو کے معروف شاعرڈاکٹر راج ولی انتقال کر گئے

Image caption ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک نے پشتو کے علاوہ اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی کتابیں اور تحقیقاتی مقالے تحریر کیے

پشتو زبان کے معروف شاعر، ادیب، محقق اور پشتو اکیڈیمی پشاور یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 63 برس تھی۔

مرحوم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک پیر کو سوات سے پشاور آ رہے تھے کہ ملاکنڈ کے مقام پر انھیں دل کا دورہ پڑا تاہم ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کا تعلق ضلع نوشہرہ کے گاؤں ڈاک اسمعیل خیل سے تھا۔ ان کا شمار پشتو زبان کے مانے ہوئے شعرا میں ہوتا تھا۔

وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ’دپختو ادبی تحریکونہ، زیست روزگار و فقیر جمیل بیگ، مناقب فقیر، پختو ژبہ، د پختو نوئے املا، سنگ زار، درحمان پہ شعر، ہیری ٹیج آف پشاور، توری چہ رنڑا کوی اور روہی متلونہ ’ قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک نے پشتو کے علاوہ اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی کتابیں اور تحقیقاتی مقالے تحریر کیے۔

انھوں نے زندگی کا زیادہ وقت درس و تدریس میں گزرا اور ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ پشتو اکیڈیمی پشاور یونیورسٹی کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ پشتو ادب میں معروف تحقیق کار کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کو پشتو ادب کے لیے خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا تھا اس کے علاوہ انھیں متعدد ادبی، سماجی اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے بے شمار اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

وہ کئی ٹیلی ویژن چینلز پر پشتو ادبی پروگراموں کی میزبانی بھی رہ چکے ہیں۔

ان کے قریبی ساتھی اور پشتو اکیڈیمی کے ڈاکٹر احمد علی عاجز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کا پشتو ادب کے لیےگراں قدر خدمات ہیں جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر ولی راج شاہ خٹک کے کارناموں میں پشتو ڈکشنری کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے پہلی مرتبہ چار جلدوں میں تقسیم کرنا شامل ہے جو ایک تاریخی کارنامہ ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں شعبۂ پشتو کے چیئرمین اباسین یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ولی راج نے کلاسیکی پشتو شعر و شاعری اور ثقافت پر بہت کام کیا۔

انھوں نے کہا کہ مرحوم نے پشاور یونیورسٹی میں پشتو کلچرل کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

اسی بارے میں