’کراچی سے لاہور‘ ایک اکتا دینے والا طویل سفر

تصویر کے کاپی رائٹ Karachi se Lahore
Image caption فلمساز اور ہدایت کار وجاہت رؤف نے اپنی فلم میں اپنے سپانسرکا مکمل خیال رکھاہے

’کراچی سے لاہور‘ ایک روڈ ٹرپ کی کہانی ہے مگر اپنی کئی کمزوریوں کی وجہ سے یہ سفر طویل اور اکتا دینے والا ہے۔

یہ کہانی ہے ضحیم (شہزاد شیخ) کی جو کراچی کےایک بینک میں چند ہزار روپے کی نوکری کرتا ہے جبکہ اس کی محبوبہ عاشی (ایشیتا سید) اس کی جان کا ’وبال‘ ہے۔

ضحیم کا کردار پچیس، تیس سال کے کسی بھی عام پاکستانی لڑکے کا ہے جس کا زندگی مسلسل امتحان لے رہی ہے۔

کراچی سے لاہور تک ضحیم کا سفر عاشی کی اس فون کال کے بعد شروع ہوتا ہے جس میں وہ اسے اپنی شادی کی خبر دیتی ہے۔

فلم میں ضحیم کے دو دوست سیم (احمد علی) اور موتی (یاسر حسین) جو کہ فلم کے مصنف بھی ہیں، اسے عاشی کو بھول جانےکا کہتے ہیں تاہم ضحیم کہتا ہے کہ وہ لاہور جا کر عاشی کی شادی رکوائے گا۔

یہیں سے اس فلم کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے جب ہوائی جہازوں کی ہڑتال کے سبب ضحیم کو پڑوسیوں سےگاڑی مانگ کر بلکہ انھیں ساتھ لے کر لاہور کے لیے روانہ ہونا پڑتا ہے۔

ضحیم کی پڑوسن مریم (عائشہ عمر) بظاہر ایک لڑاکا گھریلو لڑکی ہے تاہم سفر کے دوران اس کی شخصیت کھُل کر سامنے آتی ہے۔

فلم کے ساتھ پہلا مسئلہ اس سفر کے دوران ہی سامنے آتا ہے جب راستے میں ملنے والے کردار صرف اوور ایکٹنگ ہی کرتے نظر آتے ہیں۔

اس سفر کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جب حقیقت اور کہانی میں دور کا واسطہ بھی نہیں رہا۔

Image caption عائشہ عمر کے ’ٹوٹی فروٹی‘ کا انتظار بےثمر رہا کیونکہ لٹکے جھٹکے اور ٹھمکے سب کیمرا ٹرک ہی محسوس ہوئے

فلم میں پاکستان کے پہاڑی علاقوں کو دکھایا گیا جو کراچی سے لاہور کے سفر میں آتے ہی نہیں اور اگر اس بات کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تو دیکھنے والے کے ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ فلم میں دکھایا گیا ڈرائیورز کا ایسا میلہ پاکستان میں آخر کہاں ہوتا ہے جہاں کُشتی بھی ہوتی ہے اور آئٹم نمبر بھی۔ (اگرچہ عائشہ عمر اپنی اس پرفارمنس کو آئٹم نمبر ماننے سےگریزاں ہیں)۔

فلم میں عائشہ عمر کے پاس کرنے کو کچھ زیادہ نہیں تاہم انھوں نے پھر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اپنے ٹی وی کے تجربےکا فائدہ اٹھایا اور وہ فلم میں بےحد حسین بھی نظر آئی ہیں۔

شہزاد شیخ اور احمد علی نے بھی بہتر اداکاری کی تاہم فلم کی جان موتی یا یاسر حسین ہی رہے جن کے مضحکہ خیز جملے اور چٹکلے اکثر مواقع پر ہنسی کا سامان پیدا کر رہے تھے اور انھی کی وجہ سے فلم میں دلچسپی برقرار رہی۔

تاہم یہ اپنی جگہ ایک مسئلہ بھی تھے کیونکہ کہانی کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بھی یہی جملے پیدا کر رہے تھے لیکن یاسرحسین نے کچھ نئے مزاحیہ جملوں کا اضافہ ضرور کیا ہے۔

ان کے علاوہ عاشر وجاہت نے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر زیزو کا کردار اچھا نبھایا۔

فلم کےگانے جیسے ’ٹوٹی فروٹی‘، ’آ جا رے آ جا‘ اچھے تھے تاہم رقص نے بالکل متاثر نہیں کیا۔

عائشہ عمر کے آئٹم نمبر ’ٹوٹی فروٹی‘ کا انتظار بےثمر رہا کیونکہ لٹکے جھٹکے اور ٹھمکے سب کیمرا ٹرک ہی محسوس ہوئے۔ منتہا ترین کا آئٹم نمبر ’ربی رلی‘ بھی بےمزا ہی تھا جس میں رقص تو دیکھنے کو ملا ہی نہیں صرف آئٹم نمبر کا ماحول تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Karachi se Lahore
Image caption شہزاد شیخ اور احمد علی نے بھی بہتر اداکاری کی تاہم فلم کی جان موتی یا یاسر حسین ہی رہے

فلم کے ڈائریکٹراور پروڈیوسر وجاہت رؤف اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اس سفر میں وہ رنگ نہیں بھر سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی تاہم اس فلم میں کچھ حقیقی مزاحیہ لمحات ضرور ہیں جو مسکراہٹ بکھیرتے ہیں۔

البتہ شرمین عبید چنائے کی تین بہادر کی طرح وجاہت رؤف نے بھی اپنی فلم میں سپانسر کا مکمل خیال رکھا ہے۔

پاکستان میں سڑک کے سفر پر فلم بنانا مشکل کام ہے لیکن اسے حقیقت سےاتنا دور نہیں ہونا چاہیے۔

فلم میں کئی تکنیکی خامیاں تھی جن میں آواز اور بیک گراؤنڈ میوزک کے مسائل بھی ہیں جو ممکن ہے کہ جمعہ 31 جولائی تک، جب یہ فلم پاکستان کے سنیما گھروں کی زینت بنےگی، حل کر لیے جائیں گے۔

اسی بارے میں