’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے‘

Image caption ’محمد رفیع کسی بھی لیول پر گانا سکتے تھے، لیکن ان کے سر بگڑتے نہیں تھے‘

ہندی سنیما کے کامیاب ترین پلے بیک گلوکاروں میں شمار کیے جانے والے محمد رفیع کے انتقال کو 35 برس گزر گئے ہیں لیکن ان کی آواز کی یاد ویسی ہی ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب بھی بہت سے لوگوں کا گھر ان کی آواز سے چلتا ہے۔

محمد رفیع نے چاہے اپنی زندگی میں کسی کو اپنی گائیکی کا وارث قرار نہ دیا ہو لیکن ان کی آواز اور انداز کو اپنا کر بہت سے گلوکاروں نے اپنا کریئر بنایا ہے۔

مستی بھرا گانا ہو یا پھر دکھ بھرے نغمے، بھجن یا قوالی، ہر انداز میں رفیع کی آواز ڈھل جایا کرتی تھی.

گلوکار محمد عزیز رفیع صاحب کی اس آواز کو قدرت کا تحفہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بھی لیول پر گانا سکتے تھے، لیکن ان کے سر بگڑتے نہیں تھے۔

رفیع کی نقل کرنے والوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں، ’ان کی نقل کرنے والے 90 فیصد ’فنی‘' ہوتے ہیں۔ اگرچہ میں نے بھی رفیع کے انداز کو اپنایا، لیکن ان کی آواز کی نقل کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔‘

گلوکارہ اوشا ٹموتھی نے رفیع کے ساتھ کئی بار سٹیج پر فن کا مظاہرہ کیا اور فلم ’ہمالیہ کی گود‘ کے لیے ان کے کریئر کا پہلا گانا، رفیع کے ساتھ ہی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ hallway
Image caption ’رفیع بلند آواز کے مالک تھے، لیکن بہت آہستہ بولا کرتے تھے اور ان جیسی آواز ملنا اب مشکل ہے‘

وہ کہتی ہیں، ’رفیع صاحب اپنی آواز میں ہیرو کی ادا کو اتار لیتے تھے لیکن 1975 کے بعد مصروفیت کی وجہ سے وہ فلمیں نہیں دیکھتے تھے اور اس وجہ سے نئے اداکاروں کو نہیں پہچانتے تھے۔‘

ایسا ہی ایک قصہ بتاتے ہوئے اوشا کہتی ہیں، ’ایک بار میں اور صاحب (رفیع کی عرفیت) ایئر پورٹ پر انتظار کر رہے تھے، تبھی سامنے سے ایک خوبصورت نوجوان کو آتے دیکھ کر، صاحب نے کہا، اسے تو ہیرو ہونا چاہیے۔ اس پر میں نے انہیں بتایا کہ صاحب یہ ہیرو ہی ہیں، جن کے لیے آپ گانا بھی گا چکے ہیں۔‘

اوشا مانتی ہیں کہ رفیع کے جانے کے بعد بہت سے لوگوں کا گھر آج ان کے نام اور ان کی آواز کی نقل ہی چلتا ہے۔

80 کی دہائی میں ابھرے گلوکار شبیر کمار نے امیتابھ بچن سے لے کر سنی دیول تک سب کو اپنی آواز دی ہے۔ بنیادی طور پر گجرات کے شہر وڑودرا میں رہنے والے شبیر خود کو ’رفیع گھرانے‘ کا گلوکار مانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ usha timothi
Image caption اوشا کے خیال میں رفیع صاحب اپنی آواز میں ہیرو کی ادا کو اتار لیتے تھے

رفیع صاحب سے ملاقات کا ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے شبیر کہتے ہیں، ’میں نے اپنی بہن کو چھوڑنے کے لیے سٹیشن آیا تھا، تبھی پتہ چلا کہ رفیع صاحب احمد آباد میں شو کے لیے آئے ہیں۔ محض دو گھنٹے کے فاصلے پر صاحب تھے اور میری جیب میں صرف 32 روپے ہی تھے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’حساب کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ اتنے میں تو بغیر کچھ کھائے پیے ہی صاحب کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے گھر میں كہلوا دیا کہ میری فکر نہ کریں، میں احمد آباد جا رہا ہوں۔‘

شبیر نے بتایا، ’ کچھ دور پیدل، پھر بس اور ٹرین کا سفر طے کر میں نے شو کے مقام پر پہنچ گیا۔ سب سے کم قیمت والی دس روپے کی ٹکٹ میں نے لے لی اور بیٹھ گیا۔ تبھی پولیس والوں نے مجھے وہاں سے اٹھایا اور سٹیج کے پاس لے گئے۔ وہاں جاکر پتہ چلا کہ کچھ لوگوں کہ شرط لگی تھی کہ میں اس شو میں آؤں گا یا نہیں۔ کچھ دیر بعد صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ لوگ بڑی تعریف کر رہے ہیں تمہاری۔‘

شبیر کہتے ہیں کہ رفیع بلند آواز کے مالک تھے، لیکن بہت آہستہ بولا کرتے تھے اور ان جیسی آواز ملنا اب مشکل ہے۔

اسی بارے میں