’پاکستان کو دہشت گردی کا مترادف سمجھنے کی ذہنیت غلط ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPICE
Image caption کبیر نے کہا کہ دونوں ممالک میں انتہا پسند عناصر کے خاتمے تک باہمی دوستی اور امن ممکن نہیں

باکس آفس پر اپنی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شاندار کامیابی کے بعد اب سے کے ہدایتکار کبیر خان کی پوری توجہ ان کی اگلی فلم ’فینٹم‘ پر مرکوز ہے۔

فینٹم اگست کے آخر میں ریلیز ہو رہی ہے اور اس فلم کے لیے کبیر خان نے ممبئی پر سنہ 2008 میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے جیسے حساس موضوع کا انتخاب کیا ہے۔

اس فلم میں مرکزی کردار سیف علی خان ادا کر رہے ہیں۔

’فینٹم‘ کے ٹریلر کے اجرا کے موقع پر ایک صحافی نے جب سیف کی ایک فلم ’ایجنٹ ونود‘ کو پاکستان مخالف قرار دیا تو کبیر خان نے کہا، ’لوگوں کی پاکستان کو دہشت گردی کا مترادف سمجھنے کی ذہنیت غلط ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میری فلمیں ’بجرنگی بھائی جان‘ اور ’فینٹم‘ اسی غلط ذہنیت کے بارے میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UTV
Image caption فینٹم میں سیف علی خان اور قطرینہ کیف مرکزی کرداروں میں ہیں

کبیر نے کہا کہ ’دونوں ممالک میں باہمی دوستی اور امن تب ہی قائم ہو سکتا ہے جب دونوں طرف انتہا پسند عناصر کا خاتمہ ہو۔‘

کبیر کے اس بیان پر تقریب میں موجود ایک صحافی اس بات پر خاصے ناراض دکھائی دیے کہ وہ بھارت میں بھی ’انتہا پسند عناصر‘ کی بات کر رہے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح ’بجرنگی بھائی جان‘ کو پاکستان میں بھی ملنے والی کامیابی کے بعد کبیر ’فینٹم‘ کے ساتھ ’پاکستان مخالف فلم‘ کا ٹیگ نہیں لگوانا چاہ رہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں ان کی ایک فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ پر پاکستان میں پابندی لگ چکی ہے۔

تاہم بجرنگی بھائی جان کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی گئی اور اس سلسلے میں سینسر بورڈ سندھ کے چیئرمین فخرِ عالم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ایک اچھی اور مثبت فلم ہے جس میں پاکستان اور پاکستانیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں