’مور‘ کو آرٹ فلم کہا جا سکتا ہے کمرشل نہیں

میوزک کی ویڈیو البم بنانے میں شہرت رکھنے والے معروف پاکستانی ہدایتکار جامی نے فلم ’مور‘ بنائی اور اس فلم کے ذریعے انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا سنیما بھی جاندار فلم پیش کرسکتا ہے۔

مور (یعنی پشتو میں ماں) بلوچستان میں ریلوے کے ایک ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر واحد اللہ (حمید شیخ) کی کہانی ہے جو غربت اور کسمپرسی کی زندگی جی رہا ہے اور اُس کا بیٹا کراچی جا کر جعلی ڈگریوں کا کام کررہا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ علاقے کے طاقتور افراد سیاسی دباؤ کے ذریعے بلوچستان کے کئی علاقوں میں ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کر کے بیچ رہے ہیں اور ریل کی پٹری اور دیگر سامان چرا رہے ہیں۔

واحد اللہ ان کی باتوں میں آ کر زمین کا سودا کرلیتا ہے مگر اس کا ضمیر اسے کچوکے لگانا شروع کردیتا ہے اور یہ فلم اس کے جذباتی کشمکش کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔

ہدایتکار جامی کے مطابق یہ کہانی اصل زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ جس میں بلوچستان کے کئی علاقوں میں ریلوے بند ہونے سے وہاں کے مقامی افراد کی تباہ حال زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اس فلم میں حمید شیخ کے ساتھ سمعیہ ممتاز بھی ہیں جن کا کردار پلوشہ مختصر ہے مگر پُراثر ہے۔ شاذ خان نے واحد اللہ کے بیٹے احسان اللہ کا کردار بخوبی نبھایا ہے خاص کر پشتو لہجے میں اردو اچھی طرح بولی ہے۔

تاہم فلم کا سب سے دلچیسپ کردار بگو بابا کا ہے۔ جو ایک سادہ لوح اور منہ پھٹ انسان ہے۔ بگو بابا کہ جملوں اور انداز سے اکثر لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔

اس فلم میں کہیں کہیں کہانی پر گرفت کمزور ہوتی محسوس ہوئی ہے اور ساری توجہ فلمبندی اور اس کی پیشکش پر مرکوز ہونے سے یہ پہلو کچھ کمزور رہ گیا یہی وجہ تھی کہ چند مناظر کچھ طویل محسوس ہوئے۔

Image caption فلم کی جان فلم کے جاندار مناظر ہیں اور کسی فلم ساز کی جانب سے بلوچستان کا یہ روپ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے

تاہم دیکھنے والوں کو یہ فلم سمجھنے کے لیے شروع سے آخر تک توجہ سے دیکھنی ہوگی کیونکہ انٹرول سے پہلے کے کئی مناظر کی حقیقت دوسرے حصے میں کُھلتی ہے۔

فلم کی جان فلم کے جاندار مناظر ہیں اور کسی فلم ساز کی جانب سے بلوچستان کا یہ روپ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔

فلم کی موسیقی عمدہ ہے۔ گانوں کی شاعری انور مقصود کی ہے اور انھیں منفرد انداز سے فلمایا گیا ہے جس سے ان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔

تاہم اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود اس فلم کو آرٹ فلم تو کہا جاسکتا ہے کمرشل فلم نہیں جس کی وجہ سے باکس آفس پر اس کی کامیابی مشکل نظر آتی ہے۔

بقول ایک فلمی مبصر کے کہ یہ فلم کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلباء کو یہ کہہ کر دکھائی جاسکتی ہے کہ سیکھو فلم کیسے بنتی ہے۔ مگر عام آدمی کے لیے اس فلم میں اپنی دلچسپپی کا سامان ڈھونڈنا مشکل ہے۔

کہتے ہیں کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے مگر ہدایتکار جامی کی فلم مور میں دکھائے جانے والے بلوچستان کے دیدہ زیب اور دلکش مناظر انھیں بھی حسین لگیں گے جنہیں اکثر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔

تقریباً چھ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی یہ فلم 14 اگست کو سینیماؤں کی زینت بنے گی تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچستان میں فلمائی گئی یہ فلم اس صوبے میں کوئی بھی ڈیجیٹل سینیما نہ ہونے کی وجہ ریلیز نہیں کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں