’ہوم گرون‘ کی نمائش روکے جانے پر شدید تنقید

Image caption ڈرامے میں 112 نوجوانوں کو کام دیا گیا تھا اور اُن کا تعلق مختلف اقلتیوں سے تھا

برطانیہ میں سرکردہ فنکاروں نے نوجوان مسلمانوں کی ریڈیکلائزیشن کے بارے میں بنائے گئے ڈرامے کی نمائش روکے جانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔

’ہوم گرون‘ نامی اس ڈرامے میں نوعمر جوانوں میں شدت پسندی اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں دلچسپی سے متعلق رجحان کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔

یہ ڈرامہ لندن میں 12 اگست کو پیش کیا جانا تھا لیکن نیشنل یوتھ تھیٹر پروڈکشن نے چھ اگست کو اس کی نمائش روکنے کا اعلان کیا تھا۔

نامہ نگار سائمن جونز کے مطابق اب ایک کھلے خط میں فنکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ نیشنل یوتھ تھیٹر پروڈکشن نے بیرونی دباؤ پر یہ ڈرامہ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

فنکاروں نے کہا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ڈرامے کے ہدایتکار اور مصنف کا کہنا تھا اُن کی آواز خوف کی وجہ سے بیرونی دباؤ پر ’بند‘ کی گئی ہے جبکہ تھیٹر کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈرامہ معیاری نہیں تھا۔

تھیٹر نے کہا تھا کہ ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم نے اپنے لیے جو تمام اہداف مقرر کیے تھے وہ حاصل نہیں ہو رہے اور نہ ہی ہمارے شائقین کی توقعات پوری ہوں رہی ہیں۔‘

’ہوم گرون‘ کی کہانی لندن کے سکول سے لاپتہ ہونے والی طالبات پر مبنی ہے جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام گئی تھیں۔

ڈرامے میں 15 سے 25 سال کی عمر کے 112 افراد کو کاسٹ کیا گیا اور اُن کا تعلق مختلف اقلتیوں سے تھا۔

اسی بارے میں