ہالی وڈ میں ایجنٹ کے بغیر کام ملنا مشکل ہے: عرفان خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرفان کے مطابق ہالی وڈ میں اگر کسی اداکار کو کام چاہئے تو یہ کام ایجنٹ ہی کر سکتا ہے اور وہاں کا یہی اصول ہے.

بالی وڈ کے ساتھ ساتھ ہالی وڈ میں بھی شہرت کمانے والے اداکار عرفان خان مانتے ہیں کہ ہالی وڈ میں کردار حاصل کرنے کے لیے ایجنٹ کی مدد لینی ہی پڑتی ہے۔

میگھنا گلزار کی فلم ’تلوار‘ کے ٹریلر لانچ کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عرفان خان نے اقرار کیا کہ ’ کچھ سال پہلے تک مجھے ہالی وڈ سے کام نہیں ملتا تھا، لیکن اب ایجنٹ کی مدد سے کام ملنے لگا ہے۔‘

لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایجنٹ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو ضرور کام ملنے لگ جائے گا۔ ان کے خیال میں ’ایجنٹ صرف ایک ذریعے کام کرتا ہے، کام آپ ٹیلنٹ سے ہی ملتا ہے۔‘

عرفان کے مطابق ہالی وڈ میں اگر کسی اداکار کو کام چاہیے تو یہ کام ایجنٹ ہی کر سکتا ہے اور وہاں کا یہی اصول ہے.

آروشی قتل کیس:

تصویر کے کاپی رائٹ film pr
Image caption عرفان کہتے ہیں کہ ’میں نے اس فلم میں کام اس لیے کیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ بطور انسان، سچائی کا کھوج لگانا ہمارا فرض ہے‘

’تلوار‘ کی کہانی 2008 میں اتر پردیش میں 14 سالہ آروشی تلوار اور ہیم راج کے قتل کے گرد گھومتی ہے۔ اس قتل کی گتھی ابھی نہیں سلجھ سکی ہے۔

فلم کی ڈائریکٹر میگھنا گلزار نے آروشی قتل اور اس سے وابستہ پولیس اور عدالتی كارروائی کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

عرفان اس فلم کا حصہ کیوں بنے؟

اس سوال کے جواب میں عرفان کہتے ہیں کہ ’میں نے اس فلم میں کام اس لیے کیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ بطور انسان، سچائی کا کھوج لگانا ہمارا فرض ہے، ورنہ تو ہم ایک مردے کی مانند ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر۔‘

لیکن فلم آخر میں کسی نتیجے پر پہنچتی ہیں؟ طنز بھرے انداز میں عرفان کہتے ہیں کہ یہ تو ٹریلر ہے ابھی فلم آنی باقی ہے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی آروشی قتل پر مبنی ایک فلم ’راز‘ بن چکی ہے لیکن ’تلوار‘ زیادہ فعال فلم ہے۔

اس فلم سے عرفان کے علاوہ ڈائریکٹر میگھنا گلزار، مصنف وشال بھاردواج اور بطور گیتکار گلزار کے نام جڑے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں