’فینٹم میں ہماری عکاسی گمراہ کن اور غلط ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ UTV
Image caption 28 اگست کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ممبئی میں سنہ 2008 میں ہونے والی دہشت گردی کی سلسلہ وار کارروائیوں کے تناظر میں بنائی گئی ہے

اطلاعات کے مطابق عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسن سان فرنٹیئرز یا ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بالی وڈ کی نئی فلم ’فینٹم‘ کے پروڈیوسرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس فلم میں ان کے گروپ کی جس انداز میں عکاسی کی گئی ہے وہ تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والے اس کے عملے کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ممبئی میں سنہ 2008 میں ہونے والی دہشت گردی کی سلسلہ وار کارروائیوں کے تناظر میں بنائی گئی فلم ’فینٹم‘ جمعے کو ریلیز ہوئی ہے۔

یہ فلم بھارتی ہدایتکار اور فلمساز کبیر خان نے بنائی ہے اور اداکار سیف علی خان اور قطرینہ کیف نے اس میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

فلم میں قطرینہ کیف نے ایک ایسے امدادی کارکن کا کردار ادا کیا ہے جو ایک بھارتی فوجی کو ان حملوں کے ذمہ دار پاکستانی شدت پسند کو ہلاک کرنے میں مدد کرتی ہے۔

فلم میں وہ خود کو ایم ایس ایف کا رکن بتاتی ہیں اور فلم کے ٹریلر میں انھیں اسلحہ استعمال کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

ایم ایس ایف کے بیان کے مطابق اس کے تمام کلینکس میں ’ہتھیار رکھنے پر مکمل پابندی‘ ہے اور وہ مسلح محافظین کی خدمات بھی حاصل نہیں کرتی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’ہمارے عملے میں کسی کے پاس کبھی اسلحہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کسی قسم کی عکاسی خطرناک، گمراہ کن اور غلط ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق فلم کی تشہیر کے دوران بھی قطرینہ نے انٹرویوز کے دوران کہا تھا کہ ’جنگ زدہ علاقوں میں غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں کے مقامی انتہا پسند گروپوں سے تعلقات ہوتے ہیں‘۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ قطرینہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہیں کہ کئی امدادی ادارے محفوظ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

عالمی امدادی تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ تو فلم کی تیاری کے عمل میں ان سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی وہ کسی طریقے سے فلم سے وابستہ ہے۔

ایم ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے فلم کی پروڈکشن ٹیم سے رابطہ کیا ہے اور اپنی تنظیم اور اس کے کام کو خطرناک اور گمراہ کرنے والے طریقے سے پیش کیے جانے کی تصحیح کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔‘

بھارت میں تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل مارٹن سلوٹ نے بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز سے بات چیت کے دوران کہا کہ جمعرات کو وکلا نے فلمساز کمپنی سے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ اپنی فلم سے ایم ایس ایف کا تمام ذکر حذف کر دیں اور فلم کی نمائش سے قبل ایک اعلان کریں کہ یہ ایک مکمل فرضی چیز ہے۔

ایم ایس ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی تنظیم طبی امداد کی فراہمی کا کام کرتی ہے اور ’اسے اس کے علاوہ کسی بھی دیگر طریقے سے پیش کیا جانا ہمارے عملے، مریضوں اور ایسے علاقوں میں کام کرنے کی صلاحیت کے لیے خطرہ بنے گا جہاں لوگوں کو کسی اور ذریعے سے طبی سہولیات میسر نہیں۔‘

روئٹرز کے مطابق اس معاملے پر ردعمل کے لیے جب فلم کے ہدایتکار کبیر خان اور پروڈیوسرز ساجد نڈیاڈوالا اور سدارتھ رائے کپور سے رابطے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہیں تھے۔

خیال رہے کہ یہ فلم اس سے قبل بھی تنازعات کا شکار ہو چکی ہے اور رواں ماہ ہی پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کی ملک میں نمائش کے خلاف حکمِ امتناع جاری کیا ہے۔

یہ حکم پاکستانی مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی درخواست پر دیا گیا جن کا دعویٰ ہے کہ اس فلم میں انھیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کے اور ان کی تنظیم کے خلاف پروپیگینڈا کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں