ہزاروں خواہشیں ایسی!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ رخ خان کو جل پری کی تلاش ہے

خواہشات کی فہرست بنانا عام بات ہے اور بالی وڈ میں نئے سال کے موقعے پر اداکاروں کی جانب سے اس قسم کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

عامر خان ہر سال ایک نئی چیز سیکھنے کا عہد رکھتے ہیں لیکن شاہ رخ خان نے سال کے درمیان میں ہی اپنی خواہشات کی فہرست اپنے مداحوں سے ٹوئٹر پر شیئر کی ہے۔

بالی وڈ راؤنڈ اپ سننے کے لیے کلک کریں

ان کی فہرست میں کتاب ختم کرنا شامل ہے جو وہ گذشتہ صد ہزاریہ (ملینیم) سے لکھ رہے ہیں۔انھوں نے لکھا کہ ان خواہشات کی فہرست میں ’گٹار بجانا سیکھنا، کھانا پکانا سیکھنا، ایک اچھی جینز کی جوڑی تلاش کرنا۔ پانچ قسم کے کاک ٹیل بنانا سیکھنا، پودے کی دیکھ بھال کرنا۔ پھر سے پاپیوں پڑھنا‘ شامل ہے۔

خیال رہے کہ ’پاپیوں‘ ایک ناول ہے جسے ہنری شریرے نے لکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ سچے واقعات پر مبنی ہے۔

انھوں نے مزید لکھا: ’ہر ماں اور بیٹی کے لیے ایک ایسا گیت گانا جو ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دے۔ (پہلے میں نے) ایک ایسی چیز کرنے یا ایجاد کرنے کی بات کہی تھی جو نوبل انعام کے قابل ہو۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ انھیں ’جل پری کی تلاش ہے‘ جبکہ وہ ’سینسوئل اور سینسوئس میں درمیان کا فرق‘ جانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ پہلے کا مطلب شہوانی ہوتا ہے جبکہ دوسرے کا مطلب حسی۔ بہر حال ان کے مداح کو ان کی آنے والی فلم ’فین‘ اور ’دل والے‘ کا انتظار ہے۔

ایشوریہ کو وقت گزرنے کا احساس نہیں

Image caption ایشوریہ رائے کے مطابق وہ اپنی بیٹی کے ساتھ اس قدر مشغول رہیں کہ انھیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا

ایشوریہ رائے شادی کے بعد تو چند فلموں میں نظر آئی تھیں لیکن بیٹی ارادھیہ کی پیدائش کے بعد تو فلموں میں سے بالکل ہی دور نظر آئيں۔

وہ اب فلم ’جذبہ‘ سے فلمی دنیا میں واپسی کر رہی ہیں۔

فلموں سے ان کی دوری اور ان کے مداحوں کا انتظار چاہے کتنا ہی لمبا کیوں نہ رہا ہو لیکن ایشوریہ کا کہنا ہے کہ ان پرفلم سے علیحدگی کے اس وقفے کا کوئی اثر نہیں۔

انھوں نے کہا: ’سچ کہوں تو مجھے اس کا احساس نہیں ہوا۔ جہاں تک فلموں کا اور وقت کا تعلق ہے تو مجھے غائب رہنے کا احساس بالکل نہیں ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’حالانکہ میں فلمیں نہیں بنا رہی تھی لیکن بہت سی خواتین میری بات کی حمایت کریں گی کہ یہاں وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا ہے۔‘

ان کے ساتھ فلم ’جذبہ‘ میں عرفان خان ہیں اور ان کے خیال میں کوئی فلم اپنی کہانی کہنے کے انداز اور پیش کش کی وجہ سے لوگوں کو باندھتی ہے۔

عالیہ بھٹ اور تعلیم نسواں

Image caption عالیہ بھٹ اپنے انداز اور اپنے بیان کے لیے عام طور پر سرخیوں میں رہتی ہیں

اداکارہ عالیہ بھٹ کا سابقہ کہیں نہ کہیں تعلیم سے ضرور پڑتا رہتا ہے۔ ان کی پہلی فلم ’سٹوڈنٹس آف دا ایئر‘ میں انھوں نے ایک کالج کی طالبہ کا کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے بارھویں کے بعد اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔

دوسری جانب کئی شوز کے دوران ان کی معلومات عامہ کا حال دیکھ کر ان کا سماجی رابطوں کی سائٹس پر مذاق اڑایا گیا۔

اب ان کا تازہ مشن لڑکیوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ہے۔ ہندوؤں کے تہوار راکھی کے موقعے پر وہ اس پیغام کو عام کررہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’بنیادی طور پر ہم بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ عالمی سماجی مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ پڑھیں گی تو وہ اڑیں گی۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ لڑکیاں اڑیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ صحیح سمت، صحیح جذبے اور درست نیت کے ساتھ۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ملک میں یہ بیداری پیدا ہو کہ لڑکیوں کو بھی تعلیم دینی ہے۔‘

اسی بارے میں