’سنی کے اشتہار سے ریپ میں اضافے کا اندیشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ SUNNY LEONE
Image caption سنی لیونے ماضی میں امریکی بالغ فلموں کی اداکارہ رہ چکی ہیں اور اب بھارتی فلمی صنعت کا حصہ ہیں

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اتل کمار انجان کی اس اداکارہ سنی لیونی کے ایک اشتہار کے بارے میں تبصرے پر مبنی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

اس ویڈیو میں انھیں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ اداکارہ سنی لیونی کا کونڈوم والا اشتہار ٹی وی پر بار بار نشر ہونے سے ملک میں جنسی زیادتی کے معاملے بڑھیں گے۔

سنی لیونی ماضی میں امریکی بالغ فلموں کی اداکارہ رہ چکی ہیں اور اب وہ بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کر رہی ہیں جہاں ان کے مداحوں کا بہت بڑا حلقہ موجود ہے۔

ویڈیو میں اتل کمار کو منگل کو ریاست اترپردیش میں منعقد ہونے والے ایک جلسہ عام کے دوران یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ٹیلی ویژن کھولو تو سنی لیونی کا ایک اشتہار مسلسل دکھایا جا رہا ہے۔ یہ تشہیر صرف سیکشوئلیٹی کو فروغ دے رہی ہے اور اگر ایسے اشتہارات دکھائے جاتے رہے تو ریپ کے واقعات بڑھیں گے۔‘

اتل کمار کے اس بیان پر جہاں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم گروپوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے وہیں ٹوئٹر پر بھی یہ معاملہ زیرِ بحث ہے اور سنی لیونی کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’کیا اتل انجان یہ کہہ رہے ہیں کہ اس اشتہار کو دیکھنے کے بعد ان کے ذہن میں ریپ کے خیالات آتے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا، ’ کیا سی پی آئی لیڈر سنی پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں؟‘ جبکہ گوتم ترویدی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’مجھے اس طرح کے سیاستدانوں پر شرم آتی ہے۔‘

اس بحث کے بعد اتل کمار انجان نے سنی لیونی کے مداحوں سے تو معذرت کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس اشتہار کے حق میں نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ اشتہار بےہودہ ہیں اور میں ان کی مخالفت جاری رکھوں گا‘۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھارتی سیاستدان چست جینز، چھوٹے سکرٹس حتیٰ کہ مصالحہ دار نوڈلز کو بھی ریپ کے معاملات میں اضافے کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں