اربوں پاؤنڈز کے فن پارے، ’محض تین فیصد نمائش پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزید فن پاروں کی نمائش کی جائیں

برطانیہ کی ٹیکس پیئرز الائنس کا کہنا ہے کہ حکومتِ برطانیہ اور مقامی انتظامیہ کے پاس ساڑھے تین ارب پاؤنڈز کے فن پارے موجود ہیں لیکن ان میں سے بہت کم فن پاروں کی نمائش کی جا رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس موجود فن پاروں میں سے محض تین فیصد کی نمائش کی جا رہی ہے۔

اس الائنس کی جانب سے کی گئی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک مقامی کونسل کارلائل کے پاس ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ فن پارے ہیں لیکن ان میں سے صرف 0.02 فیصد کی عوامی نمائش کی جا رہی ہے۔

اس الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزید فن پاروں کی نمائشیں کی جائیں۔

الائنس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان فن پاروں کو بیچ دینا مناسب قدم نہیں ہو گا لیکن اس نے تجویز دی ہے کہ کونسلوں کے پاس موجود فن پارے مقامی آرٹس سکور اور کمیونٹی مراکز کو نمائش کے لیے دیے جائیں۔

الائنس کے مطابق ان میں سب سے مہنگا فن پارہ ہنری ہشتم کا جنگ اور ٹورنامنٹ کے لیے فولادی لباس ہے۔ یہ فولادی لباس رائل آرمریز نے 1649 میں حاصل کیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق اس کی موجودہ دور میں قیمت 5.36 کروڑ پاؤنڈ ہے۔

جو فن پارہ جو کسی عجائب گھر یا گیلری کی ملکیت نہیں ہے ان میں سب سے مہنگا فن پارہ ایل ایس لوری کی پینٹنگ ’لنکاشائر فیئر: گڈ فرائڈے، ڈیزی نُک‘ ہے۔

یہ پینٹنگ 1947 میں 120 پاؤنڈ میں حاصل کی گئی تھی اور اس وقت اس کی قیمت 35 لاکھ پاؤنڈ ہے۔

اس وقت اس پینٹنگ کی نمائش محکمہ برائے ثقافت، میڈیا اور کھیل میں ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں