بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستی پر مبنی پہلی کامک بک شائع

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption یہ کتاب ایک ایسی لڑکی’دھی‘ کی کہانی پر مبنی ہے جو دوسری لڑکیوں کی طرف راغب ہوتی ہے

بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں پہلی مرتبہ ایک کامک بک شائع کی گئی ہے جس میں ایک نوجوان ہم جنس پرست لڑکی اپنی جنسی خواہشات کے بارے میں انکشاف کررہی ہے۔

اس کامک بک کا مقصد بنگلہ دیش جیسے قدامت پسند مسلمان اکثریت والے ملک میں ہم جنس پرستوں کی حالت زار کے بارے میں آگہی پیدا کرنا ہے۔

بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سب سے بڑے گروپ بوائز آف بنگلہ دیش نے ہفتے کو ’دھی‘ نامی اس کامک بک کی اشاعت کا انتطام کیا تھا۔

بنگالی زبان میں دھی کے معنی عقل اور دانائی کے ہیں۔

اس کامک بک کا مواد تیار کرنے والے چار لوگوں میں سے ایک مہناز خان نے امریکی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’دھی کا مقصد ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے بارے میں لوگوں کا رویہ مثبت بنانا ہے کیونکہ ہمیں اپنی محبت کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔‘

’اس کا مقصد سب کو ایک پیغام دینا ہے۔‘

بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ انتہائی امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستی ایک جرم ہے جس کی سزا عمر قید ہے۔ گو کہ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

اس کامک بک کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سیمیناروں اور تقریبات میں تقسیم کیا جائے گا۔

یہ کتاب ایک ایسی لڑکی’دھی‘ کی کہانی پر مبنی ہے جو دوسری لڑکیوں کی طرف راغب ہوتی ہے اور ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماجی کارکن خوشی کبیر کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ایسی تقریبات عوامی مقامات پر کرانا چاہتے ہیں

مخالفت کے شدید دباؤ کے خیال سے، دھی اپنے سامنے آنے والی مشکلات پر غور کرنے کے بعد پڑھنے والوں سے سوال کرتی ہے کہ کیا اس کو خودکشی کرلینی چاہیے، اپنے خاندان کو خوش رکھنے کے لیے ایک مرد سے شادی کرلینی چاہیے، ملک سے بھاگ جانا چاہیے یا پھر یہیں رہ کر اپنے دل کی سننی چاہیے؟

کئی سو لوگوں نے ڈھاکہ کے برطانوی سفارتخانے میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی۔ حالانکہ داخلے کے وقت قدامت پرستوں کی جانب سے احتجاج کے خطرے کے پیش نطر سخت حفاطتی اقدامات کیے گئے تھے۔

بنگلہ دیش کی ممتاز سماجی کارکن خوشی کبیر کا کہنا ہے کہ ’ہم آئندہ ایسی تقریبات عوامی مقامات پر کرانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اپنی زندگیوں کو بند دروازوں کے پیچھے ایک راز کی طرح گزارنا نہیں چاہتے۔‘

بنگلہ دیش جہاں 90 فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے اور قدامت پرست حلقے بہت با اثر ہیں، بہت سے ہم جنس پرست انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنی جنسی شناخت کو چھپانے اور دوہری زندگی جینے پر مجبور ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کے ہم جنس پرست مرد اپنے حقوق کے بارے میں بہت فعال ہوگئے ہیں اورگذشتہ دو سال سے نئے سال کے موقعے پر چھوٹے پیمانے پر پرائیڈ مارچ کا اہتمام بھی کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال بنگلہ دیش میں معمولی تنقید کے بعد ہم جنس پرستوں کا پہلا رسالہ بھی شائع کیاگیا۔

اسی بارے میں