’نکول کڈمین ناظرین کو محو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Johan Persson
Image caption دا سٹیج کے ماکرک شینٹن نے لکھا ہے ’اگرچہ نکول نے کپڑے نہیں اتارے لیکن جذباتی تہیں صاف عیاں تھیں‘

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سٹیج ڈرامے ’فوٹوگراف 51‘ میں اداکارہ نکول کڈمین کی اداکاری کی بے حد تعریف کی گئی ہے۔

اس ڈرامے میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ نے ایک برطانوی سائنسدان روزالنڈ فرینکلن کا کردار ادا کیا ہے جو واحد خاتون ہیں اس ٹیم میں جس نے 1953 میں ڈی این اے کا جڑواں ہیلکس دریافت کیا تھا۔

اینا زیگلر کا یہ ڈراما پیر سے پیش کیا جا رہا ہے اور اس کو ناقدین نے بہت پسند کیا ہے۔

اس ڈرامے کے ہدایتکار مائیکل گرینڈج ہیں اور یہ نوئل کاورڈ تھیٹر میں 21 نومبر تک دکھایا جائےگا۔

17 سال بعد ویسٹ اینڈ میں تھیٹر پر جلوہ گر ہونے والی اداکارہ نکول کڈمین کی پرفارمنس کو گارڈیئن اخبار نے ’پراثر اور ذہین‘ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Johan Persson
Image caption اینا زیگلر کا یہ ڈراما پیر سے پیش کیا جا رہا ہے اور اس کو ناقدین نے بہت پسند کیا ہے

نکول کی اداکاری کے بارے میں مائیکل بلنگٹن نے لکھا ہے ’اینا زیگلر کے اس 95 منٹ کے سنسنی خیز اور معلوماتی ڈرامے کے حوالے سے میری صرف ایک شکایت ہے کہ یہ زیادہ مزید لمبے دورانیے کا نہیں ہے۔ نکول کڈمین کی عمدہ کارکردگی نے ہمیں ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ ذاتی جذبہ سائنسی زندگی میں کتنا کام آتا ہے۔‘

1998 میں سر ڈیوڈ ہیئر کے ڈرامے ’ڈونمر ویئر ہاؤس‘ میں نکول کچھ دورانیے کے لیے سٹیج پر برہنہ آئی تھیں تو ڈیلی ٹیلیگراف کے چارلز سپینسر نے پرفارمنس کو ’خالصتاً تھیٹر کا ویاگرا‘ قرار دیا تھا۔ تاہم اس ڈرامے میں نکول کی اداکاری کے بارے میں ڈبمنک کیونڈش کا کہنا ہے کہ نکول نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ ناظرین کو محو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

دا سٹیج کے ماکرک شینٹن نے لکھا ہے ’اگرچہ نکول نے کپڑے نہیں اتارے لیکن جذباتی تہیں صاف عیاں تھیں۔‘