جوانی کے بوڑھے انداز

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption واسع چوہدری کا یہ دعویٰ دراست نہیں معلوم ہوتا کہ یہ فلم کسی ہالی وڈ یا بالی وڈ سے متاثر ہوکر نہیں بنائی گئی

’جوانی پھر نہیں آنی‘ مجموعی طور پر ایک روایتی فارمولےکی مصالحہ فلم ہے۔ تاہم یہ بارہ مصالحہ کی ایسی چاٹ ہے جس کا ہرمصالحہ مختلف چکی میں پیسا گیا ہو۔

کہانی ایک غیرشادی شدہ (ہمایوں سعید) اور تین شادی شدہ دوستوں (حمزہ علی عباسی، احمد بٹ، واسع چوہدری) کی کہانی ہے جو اپنی بیویوں سے جھوٹ بول کرعیاشی کےلیے بنکاک جاتے ہیں۔

یہاں ہمایوں سعید کی ملاقات مَرینہ (مہوش حیات) سے ہوتی ہے جو ایک ڈان کی بیٹی ہے۔ یہاں بھی فلم میں ایک روایتی سین تھا کہ لڑکی کو ہیرو غنڈوں سے بچاتا ہے اور وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں وہاں سے بھاگنا پڑتا ہے۔

سوہائے علی ابڑو انٹرول کے بعد فلم میں جلوہ گر ہوتی ہیں جب تین دوستوں کو چوتھے دوست کی شادی کی خبر ملتی ہے۔ اس فلم میں بھی سوہائے نے ’رانگ نمبر‘ کی طرح ایک مزاحیہ کردار ہی ادا کیا ہے تاہم اس میں ان کی کارکردگی ’رانگ نمبر‘ سےکافی بہتر تھی۔

خواتین کی اداکاری کے بارے میں بات کی جائے تو ثروت گیلانی نے پختون بیوی کا کردار سب سےدلچسپ اندازمیں نبھایا ہے۔ ایک پختون عورت کے روپ میں ڈھل کر ان کے بے ساختہ پن نے مسکرانے پرمجبور کردیا تاہم عائشہ خان اور عظمٰی کےکردار بہت روایتی تھے۔

بشریٰ انصاری نے اپنی مشہور ڈراما سیریز ’آئے گی بارات‘ کی صائمہ چوہدری کا کردار ہی مختلف نام سے اپنایا۔ یاد رہے کہ اُس سیریز کے مصنف بھی واسع چوہدری ہی تھے، جو اِس فلم کے بھی مصنف ہیں۔ اس لیے شاید یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ کوئی نیا کردار تخلیق کرتے۔

مہوش حیات کی فلمی شہرت آئٹم نمبر ’بلی‘ سے تھی اورایک لحاظ سے یہ ان کی پہلی فلم ہے مگر ان کے پاس کچھ مختلف نہ تھا، نہ اداکاری نہ گلیمر اس لیے وہ بڑے پردے پر کوئی خاص تاثرچھوڑنےمیں بری طرح ناکام رہیں۔ رقص کی بات کریں تو سوہائے علی ابڑو اس میں مہوش حیات سے ہر لحاظ سے بہترنظر آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption مہوش حیات کی فلمی شہرت آئٹم نمبر ’بلی‘ سے تھی اورایک لحاظ سے یہ ان کی پہلی فلم ہے مگر ان کے پاس کچھ مختلف نہ تھا

اس فلم میں تھائی لینڈ کے ساحلوں اور شہری علاقوں کو خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے اور تیراکی کےمختصر لباس میں کافی خواتین کوخاص طور پر دکھایا گیا ہے جوشاید عوام کو اس فلم کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

واسع چوہدری کا یہ دعویٰ دراست نہیں معلوم ہوتا کہ یہ فلم کسی ہالی وڈ یا بالی وڈ سے متاثر ہوکر نہیں بنائی گئی۔ اس فلم کی کہانی ہالی وڈ کی ’ہینگ اوور‘ اور بالی وڈ کی فلموں، ’میں تیرا ہیرو‘ ، ’مستی‘، ’نو پرابلم‘ اور ’شوقینز‘ سمیت کچھ دیگر فلموں کامجموعہ ہے۔

کئی اداکاروں پر مشتمل فلموں میں اپنی الگ شناخت بنانا مشکل کام ہوتا ہے مگر اسماعیل تارا اور جاوید شیخ نے اپنے کردار حسبِ سابق عمدگی سےادا کیے ہیں۔

اس فلم میں واسع، احمد بٹ، حمزہ علی عباسی اور ہمایوں سعید کی آپس میں دوستی کی کیمسٹری تو بہت اچھی نظر آئی مگر ہمایوں سعید اپنی دونوں ہیروئینوں کے ساتھ کچھ جچے نہیں۔ اگرچہ اس فلم میں انہوں نے شاہ رُخ خان بننے کی کافی کوشش کی ہے۔

واسع چوہدری اور احمد علی بٹ اور حمزہ علی عباسی کے کردار ایسی فلم کےعمومی کردار تھے جو انہوں نےجیسے تیسے ادا کرہی دیے۔

فلم کے گانے جیسے ’کھُل جائے بوتل‘، بھی روایتی سے ہیں جو شاید پارٹیوں میں بجائے جائیں البتہ ’فیئر اینڈ لوّلی کا جلوہ‘ اور ’ایسا جوڑ ہے‘ سننے میں ذرا طویل اشتہار محسوس ہوئے۔

فلم میں سپانسرز کا بھی خیال رکھا گیا ہے مگر ماضی کی کئی فلموں کی نسبت کافی بہتر انداز میں تشہیر کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption خواتین کی اداکاری کے بارے میں بات کی جائے تو ثروت گیلانی نے پختون بیوی کا کردار سب سےدلچسپ اندازمیں نبھایا ہے

فلم میں دلچسپی چند یک سطری جملے قائم رکھتے ہیں جو وقتاً فوقتاً حاضرین کوقہقہہ مارنے پر مجبور کر ہی دیتے تھے، خاص کر حمزہ علی عباسی کا وہ سین جب وہ اپنی بیوی سے سکائپ پر بات کرتے ہوئے بکنی میں ملبوس لڑکی کو سی آئی اے ایجنٹ کہہ کر ’طالبان بھائیوں‘ کو مدد کے لیے پکارتا ہے۔

مگر یہاں بھی کہیں کہیں مزاح پھکڑ پن میں داخل ہوا، جیسے اسماعیل تارا کا یہ کہنا کہ ’میری بیٹی سمجھ کر اٹھانا مہوش حیات سمجھ کےنہیں‘۔

جوانی پھر نہیں آنی عیدالاضحٰی کے دن سے سینما گھروں دکھائی جائےگی۔ ڈائریکٹر ندیم بیگ کے مطابق تقریباً دس کروڑ کی لاگت سےتیار کی گئی اس فلم کے سکرپٹ پر ایک سال تک کام کیا گیا تھا اوریہ سات ماہ میں مکمل کی گئی ہے۔

اس فلم میں کچھ نیا یا غیرروایتی نہیں ہے سوائے چند جملوں کے مگر کہانی کا انداز اتنا پرانا ہے جسے دیکھ کر لوگ اب بوڑھے ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں