فرانس اور نیدرلینڈز کے درمیان دو پینٹگز پر معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریمبراں نے سنہ 1634 میں یہ تصاویر اپنے کیریئر کےابتدائی دنوں میں بنائی تھیں

کئی ہفتوں سے فرانس اور نیدرلینڈز کے درمیان 17 ویں صدی کے معروف ولندیزی مصور ریمبراں کی بنائی گئی دو پینٹنگز کے متعلق بحث و تکرار کے بعد دونوں ممالک بالآخر ان تصاویر کو مل کر خریدنے کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔

نیدرلینڈز کی حکومت اور قومی عجائب گھر رجکس میوزیم کے حکام ان دونوں پینٹنگز کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جبکہ فرانس ان میں سے ایک تصویر کو پیرس کے لوروو میوزیم میں سجانے کے لیے خریدنے کی خواہش رکھتا ہے۔

تاہم ان تصاویر پر لگی 18کروڑ ڈالر کی قیمت سے نیدرلینڈز معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا ثابت ہوا ہے۔

رجکس میوزیم کے ڈائریکٹر وم پجبیز کا جو اس خبر پر واضح طور پر خوش نظر آتے ہیں کہنا ہے کہ’کچھ مہینوں پہلے تک یہ سب بالکل ناقابلِ یقین لگتا تھا، لیکن اب دو شاندار پینٹنگز دنیا کے دو مشہور عجائب گھروں میں عوام کے سامنے اکھٹی نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔‘

یہ پینٹنگز مرٹن سولمانز اور اوجین کوپِٹ کی ہیں جو 20 ویں صدی میں نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم سے تعلق رکھنے والی ایک امیر کبیر جوڑی تھی۔ ان کی پینٹنگز ولندیزی مصور ریمبراں نے سنہ 1634 میں اپنے کیریئر کے آغاز پر بنائی تھیں اور وہ بہت منفرد نظر آتی تھیں۔

ان پینٹنگز کو سنہ1877 میں ایک امیر خاندان روتھسچائلد نے خریدا اور ملک چھوڑتے وقت وہ انھیں اپنے ساتھ پیرس لے آئے۔

سنہ 1956 میں ان کو نیدر لینڈز میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا لیکن اس کے بعد عوام میں انھیں کبھی کبھار ہی دیکھا گیا۔

شادی کی ان پینٹنگز سے متعلق منگل کو ڈچ پارلیمان میں بھی گرما گرم بحث ہوئی، کیونکہ ارکان پارلیمان کو خوف تھا کہ کہیں چین یا خلیج میں فن پاروں کو ذاتی طور پر اکھٹا کرنے والوں کے درمیان بولی لگانے کی اس جنگ میں کہیں یہ تصاویر ضائع ہی نہ ہوجائیں۔

دو جماعتوں نے تو اپنے دلائل میں یہاں تک کہا کہ اس سے حاصل ہونے والے پیسے کو اچھی چیزوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ اُن کے خیال میں حکومت بلامقصد قومی خزانے اور لاٹری فنڈز میں سے 160 یوروز کی ضروری اور خطیر رقم خرچ کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Iwan Baan
Image caption ان تصاویر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں ریمبراں کی نائٹ واچ تصاویر کے ساتھ ہی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا

اس دوران فرانسیسی وزیرِ ثقافت فولیرر پیلیرن نے پورا موسمِ گرما ان کوششوں میں گزار دیا کہ رقم آٹھ کروڑ یوروز تک بڑھا دی جائے تاکہ ان میں سے ایک پینٹنگ کو بینک آف فرانس کی سپانسرشپ سے لوروو کے لیے حاصل کیا جا سکے۔

اُن کے ڈچ ہم منصب جیٹ بیوسی میکر نے پارلیمان کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا کہ آخرکار اقوامِ متحدہ میں ایک ملاقات کے دوران وزیراعظم مارک روتھ اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے درمیان معاہدہ طے ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق دونوں تصاویر پہلے رجکس میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

ایمسٹرڈیم میوزیم کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ یہ بہت انوکھا سا ہے کہ دونوں ممالک کے عجائب گھروں میں کسی چیز کو اس طرح سے بانٹا جائےگا، لیکن یہی ایک بہتر حل تھا۔

رجکس میوزیم کے ڈائریکٹر پجبیز کے مطابق یہ پینٹنگز رجکس میوزیم کی شاندار ’گیلری آف آنر‘ میں مصور ریمبراں کی معروف نائٹ واچ کے بعد نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ یا تو وہ فرینس ہالز کے فن پارے لگائیں گے یا پھر دوسرے ولندیزیوں کی بنائی گئی تصاویر لگائی جائیں گی۔

اسی بارے میں