سنگاپور چوری شدہ مجسمہ بھارت کو واپس کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ ACM
Image caption اس مورتی کو تمل ناڈو کے ایک شیو مندر سے چوری کیا گیا تھا

سنگاپور عجائب گھر 11ویں صدی کا ایک مجسمہ بھارت کو واپس کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے بھارت سے چوری کیا گیا تھا۔ ایشیئن سِویلائزیشن میوزیئم نے یہ نادر مجسمہ 2007 میں نیویارک کی کمپنی آرٹ آف دی پاسٹ سے ساڑھے چھ لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔

بعد میں آرٹ آف دی پاسٹ کے مینیجر نے بھارت سے چوری ہونے والے نوادرات کی فروخت کا اعتراف کیا تھا۔ چوری شدہ نوادرات کی فروخت کے الزامات 2012 میں اس وقت سامنے آئے جب اس کمپنی کے خلاف عدالت میں نوادرات کی سمگلنگ کے کیس کی سماعت ہوئی۔

خیال ہے کہ ہندو دیوی اما پرمیشوری کی اس مورتی کو بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک شیو مندر سے چوری کیا گیا تھا۔

’لوٹے ہوئے بھارتی نوادرات‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنگاپور کے عجائب گھر یہ مورتی ساڑھے چھ لاکھ ڈالر میں خریدا تھا

اس مورتی کو واپس کرنے کا فیصلہ سنگاپور کے نیشنل ہیریٹیج بورڈ اور بھارت کے آثار قدیمہ کے ادارے (اے ایس آئی) کے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا۔ سنگاپور کے عجائب گھر کے مطابق اے ایس آئی نے مئی میں سرکاری طور پر اس مجسمے کی واپسی کی درخواست دی تھی۔

عجائب گھر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابھی کوئی حتمی ثبوت نہیں ہیں کہ اس مجمسے کو تمل ناڈو کے شیو مندر ہی سے چوری کیا گیا تھا، اور یہ کہ عجائب گھر نے آرٹ آف دی پاسٹ کے مینیجر کی جانب سے بھارت سے لوٹے گئے نوادرات کی فروخت میں ملوث ہونے اور ان کی مجرمانہ طور پر قبضے میں چوری کیے گئے 150 نوادرات کے اعتراف کا نوٹس لیا ہے۔

سنگاپور کے عجائب گھر کے مطابق بھارت کو واپس کیے جانے والا مجسمہ ان 30 نوادرات میں شامل ہے جنھیں نیویارک کے آرٹ آف دی پاسٹ سے خریدا گیا تھا۔

عجائب گھر کے مطابق وہ دھوکہ دہی پر زرتلافی ادا کرنے کے لیے قانونی کارروائی کرے گا۔

اسی بارے میں