50 برس کا ہیرو تو دوڑےگا، لیکن ہیروئن؟

Image caption لوگ ایشوریہ رائے بچن کی فلم جذبہ کے باکس آفس کلیکشن کا حساب کتاب کر رہے ہیں لیکن اس فلم میں کافی کچھ اور بھی ہے جس پر بحث ہونی چاہیے

ایک عشرے پہلے کا وقت ہوتا تو، شاید انھیں ہیرو یا ہیروئینوں کی ماں کے کردار ملتے۔ لیکن آج ایسی عمر رسیدہ اداکاراؤں کو ہیروئن کا کردار مل رہا ہے۔

فلم کے کاروبار پر نظر رکھنے والے لوگ ایشوریہ رائے بچن کی فلم ’جذبہ‘ کے باکس آفس کلیکشن کا حساب کتاب کر رہے ہیں لیکن اس فلم میں کافی کچھ اور بھی ہے جس پر بحث ہونی چاہیے۔

بالی وڈ 30 برس سے زیادہ عمر کی خواتین، شادی شدہ اور ماں بننے والی خواتین کے بارے میں بے حسی رکھنے والی انڈسٹری رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بڑی خامیوں کے باوجود فلم جذبہ ایک طرح سے سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔

آخر 41 برس کی شادی شدہ اداکارہ بالی وڈ کی مرکزی دھارے کی فلموں میں مرکرزی کردار میں کتنی نظر آتی ہیں، خاص کر ایسی ہیروئنیں جنھوں نے پانچ برس کے وقفے کے دوران ایک بچی کو جنم دیا ہو؟

یہ خاص بات اس لیے بھی ہے کیونکہ اس سے پہلے 15 سال بعد سکرین پر واپسی کرتے ہوئے 49 سال کی عمر میں اداکارہ سری دیوی 2012 میں ’انگلش ونگلش‘ جیسی ہٹ فلم دے چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Colors
Image caption بالی وڈ کی فلموں میں نئے طرح کے تجربات کا چلن بڑھا ہے۔ گذشتہ عشرے کے مقابلے میں اب شادی شدہ اداکاراؤں کے بارے میں بےحسی کا احساس کم ہوا ہے

گذشتہ برس مادھوری دیکشت کی فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ بھی کامیاب فلموں میں شامل تھی۔ ان تینوں فلموں کی کہانیاں خواتین کے مرکزی کردار پر مبنی تھیں۔

بالی وڈ کی فلموں میں نئے طرح کے تجربات کا چلن بڑھا ہے۔ گذشتہ عشرے کے مقابلے میں اب شادی شدہ اداکاراؤں کے بارے میں بے حسی کا احساس کم ہوا ہے۔ لیکن ایسی اداکاراؤں کے سامنے اب بھی زیادہ اختیارات نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر اصل زندگی میں ماں بننے والی اداکاراؤں کو اہم کردار ادا کرنے کے لیے فلمی دنیا میں بھی ماں کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح کے کردار ناکافی یا ٹھیک ٹھاک نہیں ہیں۔ یہ کردار عام روایت سے مختلف تو ہیں لیکن ان میں تنوع کہاں ہے؟ ان اداکاراؤں کی کردار میں ہلکے پھلكے محبت کے سین کہاں ہیں؟

اس میں عمر رسیدہ خواتین کی جرات کی عکاسی کرنے والا کوئی کردار یا پھر کامیڈی پر مبنی کردار کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اداکاراؤں کے کردار ان کی حقیقی عمر کے مطابق ہوں اس کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے کردار کو ان کی عمر کی مناسبت سے تیار کیا جاتا ہے

جبکہ ان اداکاراؤں کے برعکس اس طرح کے ہیرو مختلف طرح کے کردار میں نظر آتے ہیں۔ وہ پردے پر کنوارے بھی ہو سکتے ہیں یا شادی شدہ بھی، کبھی کبھی والد کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، اکثر اپنی حقیقی عمر سے کافی کم عمر کے کردار میں، وہ اپنے دو عشرے چھوٹی ہیروئنوں سے پیار ومحبت پر مبنی والے کردار بھی کر سکتے ہیں۔

لیکن اداکاراؤں کی کردار ان کی حقیقی عمر کے مطابق ہوں اس کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے کردار کو ان کی عمر کی مناسبت سے تیار کیا جاتا ہے۔

پروڈیوسر کہتے ہیں کہ ناظرین یہی چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ناظرین کو انتخاب کا موقع ہی نہیں دیتے۔ بڑے بجٹ کی تقریباً تمام فلمیں مرد کے مرکزی کردار پر مبنی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Temptation Reloaded
Image caption پچاس برس کا ہیرو تو اپنے سے بیس برس کی کم عمر کی لڑکی کے ساتھ رومانس کر سکتا ہے لیکن ہیروئن کا کردار اس کی عمر کی مناسبت ہی ہوتا ہے

گذشتہ ہفتے فلم مبصرین نے اپنے جائزوں میں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ فلم جذبہ میں ایشوریہ کا کردار ان کی عمر کے مطابق ہے۔ لیکن یہی میڈیا اس وقت احتجاج نہیں کرتا جب 50 سال کی عمر کے ہیرو 20-30 سال کے لڑکے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

بالی وڈ کے پروڈیوسر، مصنف، ڈائریکٹر اور صحافی کسی مختلف دنیا میں نہیں رہتے۔ وہ ہماری آپ کی طرح ہی پدرانہ سماج میں ہی رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شادی سے خواتین کا قد بڑھتا ہے اور وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ بیویوں کو شوہر اور بچوں کی ضرورت کے سامنے اپنے خواب کو اہمیت نہیں دینا چاہیے۔ ظاہر ہے فلم انڈسٹری میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

خواتین کے پاس محدود اختیارات ہیں اور اس سے زیادہ کی مستحق ہیں۔ جب تک انھیں ان کا حق نہیں ملتا تب تک ایشوریہ، مادھوری، سری دیوی اور کسی دوسری اداکارہ کی طرف بالی وڈ کا بڑھنے والا ہر چھوٹا قدم بھی اہمیت کا حامل ہے۔

اسی بارے میں