بابا فرید کا دربار قوالوں کا ’روحانی گھر‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہر سال ہزاروں لوگ صوفی درویش بابا فرید گنج شکر کے دربار پر حاضری دینے آتے ہیں، جو بڑھتی شدت پسندی کے باوجود خطے میں تصوف اور صوفی اسلام کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ قوالی اور قوالوں کے لیے یہ مزار ایک روحانی بنیاد بھی ہے۔

عالمی سطح پر مقبول ہونے والے قوالی کے صدیوں پرانے فن کی جڑیں اسی دربار سے منسلک ہیں۔

نصرت فتح علی خان سے لے کر صابری برادران تک، سب عالمی شہرت یافتہ قوالوں کی شروعات اسی مقام سے ہوئیں۔

یہاں پر لوگوں کا خیال ہے کہ قوالی کی بنیاد بزرگان دین نے یہیں رکھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ تمام بڑے قوال گھرانوں کا تعلق پاکپتن سے ہے۔

کہا جاتا ہے کہ قوالی کے بادشاہ سمجھے جانے والے استاد نصرت فتح علی خان کے گھرانے کو دربار کے بزرگ کی دعا ہے۔

اس گھرانے کا دربار سے روحانی تعلق آٹھ سو سال پرانا ہے۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ صوفی درویش بابا فرید گنج شکر نے انھیں دعا دی تھی کہ ان کی آنے والی ہر نسل میں سے عظیم قوال پیدا ہوں گے۔

نصرت فتح علی کے بھانجے استاد محبوب فرید اکرم خان دربار پر اپنی قوالی کے ذریعے اپنی محبت اور عقیدت پیش کرنے آتے ہیں اور ان کی قوالی ہی ان کی دعا ہے۔

Image caption ہر سال قوال اپنے اس روحانی گھر کا رخ کرتے ہیں اور عرس کی منتخب شدہ چار راتوں میں محفل سما منعقد ہوتی ہے

طبلے کی تال پر ان کی انگلیاں مہارت سے ہارمونیم کے سروں کو اجاگر کر رہی ہیں۔ اور صوفیانہ کلام نے انھیں اور ان کے گرد جمع لوگوں پر وجد طاری کر دیا ہے۔ کوئی آنکھیں موندے جھوم رہا ہے اور کوئی بابا فرید کے دربار کی سمت ہاتھ بڑھائے دھمال کی کیفیت میں ہے۔

استاد محبوب فرید اکرم خان نے بتایا ’ہم قوالوں کی تو درس گاہ بھی یہی ہے اور سکول بھی یہی، ہر سال یہاں پوری دنیا سے قوال اپنا کلام پیش کرنے آتے ہیں۔ کوئی بھی نیا کلام یا کام دنیا کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ہم یہاں اپنے روحانی استاد کی محفل میں پیش کر کے اجازت لیتے ہیں۔‘

ہر سال قوال اپنے اس روحانی گھر کا رخ کرتے ہیں اور عرس کی منتخب شدہ چار راتوں میں محفل سما منعقد ہوتی ہے۔

قوالی کا فن پشت در پشت منتقل ہوتا ہے اور اب نصرت علی فتح علی خان کے جانے مانے جالندھری گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوعمر بھائیوں سیف اور کیف علی میانداد خان کی باری ہے۔

بولنا سیکھتے ہی انہوں نے اپنے باپ دادا سے قوالی کے سروں اور سازوں کی تربیت لی اور اب وہ دربار کی محفل میں اپنا لوہا منوانے آئے ہیں۔

Image caption عالمی سطح پر مقبول ہونے والے قوالی کے صدیوں پرانے فن کی جڑیں اسی دربار سے منسلک ہیں

کیف علی میانداد نے بتایا ’ہم نے اپنے بڑوں کی مقدس قوالی سنتے ہوئے ہوش سنبھالا ہے۔ قوالی کے بول میں اللہ کا نام میرے دل کو چھوتا تھا، تب ہی میں نے فییصلہ کیا کہ میں بھی قوال بنوں گا۔ دربار کے بزرگ کی دعا سے مجھے یقین ہے میں اپنے باپ دادا کا نام روشن کروں گا۔‘

کیف کی والدہ شمائلہ میانداد کے مطابق وہ اپنے بیٹوں کو قوال بنانے کے لیے کراچی سے پاکپتن منتقل ہوئی ہیں۔

’ہم کراچی میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں منتقل ہو چکے ہیں، تاکہ دربار کے قریب رہ کر میرے بیٹے اپنے باپ دادا کی طرح قوالی میں اپنا نام روشن کر سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دربار کی محفل میں تمام بڑے قوال موجود ہوتے ہیں اور بچوں کے کریئر کا عروج و زوال اس موقعے پر منحصر ہے۔‘

صدیوں کی قدیم روایتوں کا امین بابا فرید گنج کا دربار اب کیف اور سیف کے ان اہم لمحات کا گواہ بنا ہے اور ہمیشہ کی طرح یہیں سے دو نئے قوالوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں