بہت احمقانہ بات ہوگی کہ میں مزید موسیقی تخلیق نہ کروں: کولنز

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption ’یہ بہت احمقانہ بات ہوگی کہ میں مزید موسیقی تخلیق نہ کروں‘

برطانوی گلوکار فل کولنز کا کہنا ہے کہ وہ میوزک کی دنیا سے لی گئی ریٹائرمنٹ ختم کرنے والے ہیں اور وہ ایک دورے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں۔

رولنگ سٹون نامی میگزین سے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میوزک کی دنیا سے میں مزید ریٹائر نہیں رہا۔ میں کام کرنے کے لیے ایک بار پھر تیار ہوں۔‘

64 سالہ گلوکار جنھوں نے جنیسس بینڈ کے ممبر کے طور پر بھی کام کیا نے بتایا کہ 2011 میں انھوں نے گلوکاری کی دنیا کو چھوڑنے کا فیصلہ ’اپنے دو چھوٹے بیٹوں کی بہتر پرورش کے لیے کیا تھا۔‘

اپنے انفرادی میوزک البمز دوبارہ جاری کرنے سے متعلق انھوں نے رولنگ سٹون کو بتایا کہ ’یہ بہت احمقانہ بات ہوگی کہ میں مزید موسیقی تخلیق نہ کروں۔‘

کولن نے 2002 میں اپنے نئے گانوں پر مبنی مکمل میوزک البم ’ٹیسٹیفائی‘ کے بعد سے اب تک کوئی البم جاری نہیں کی۔

سنہ 2007 میں جنیسس بینڈ کے دوبارہ ملاپ کے بعد ہونے والے ایک دورے کے دوران کولن کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے سرک گئے اور اُن کے ہاتھ کے پٹھوں کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے وہ ڈرم بجانے کے قابل نہیں رہے۔

انھوں نے رولنگ سٹون کو بتایا کہ وہ فلوریڈا کے شہر میامی میں واقع اپنے مکان میں ایک سٹوڈیو چلارہے تھے اور اگلے مہینے سے وہ اپنے نئے میوزک البم کی ریکارڈنگ کا آغاز کردیں گے۔

کولن کے نئے بینڈ میں مشہور زیپلین ڈرمر جان بونہم کے بیٹے جیسن بونہم شامل ہیں۔

اپنے نئے گانوں کی تشہیر کے لیے متوقع دورے سے متعلق کولن کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کسی طویل دورے کی ضرورت ہے۔ لیکن میں یہ پسند کروں گا کہ میں آسٹریلیا کے سٹیڈیم اور مشرقِ بعید میں اپنے فن کا مظاہرہ کروں اور اس کے لیے یہ دورہ ہی واحد طریقہ ہے۔ لیکن ایک طرف میری یہ بھی خواہش ہے کہ میں صرف تھیٹر کروں، تو ہم دیکھیں گے کہ کیا کریں۔‘

کولن نے سات گریمی ایوارڈ، چھ برٹ ایوارڈ اور دو گولڈن گلوب ایوارڈز جیتے جبکہ فلم ٹارزن کے ساؤنڈ ٹریک کے لیے ان کو آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔