ہم جنسی کے موضوع پر بالی وڈ کی پہلی فلم

تصویر کے کاپی رائٹ eros
Image caption یہ کہانی 64 سالہ سری نواس رام چندرن سرسا کی ہے جو علی گڑھ میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے تھے

بھارت کے معروف ممبئی فلم فیسٹیول میں ہم جنسی کے مسائل اور اس سے متعلق ایک اصل واقعے پر مبنی فلم ’علی گڑھ‘ دکھائی جائے گی۔

ہم جنسی کے متعلق لوگوں کے رویے پر مبنی بالی وڈ کی جانب سے اس طرح کی یہ پہلی فلم ہے جو بھارت میں ریلیز کی جائے گی۔

یہ فلم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی کہانی پر مبنی ہے جنھیں 2010 میں ایک ویڈیو آنے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں انھیں ایک مرد کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

علی گڑھ میں اداکار منوج واجپائی اور راج کمار راؤ نے اہم کردا ادا کیے ہیں۔

یہ فلم جمعے کو ممبئی کے فلم فیسٹیول میں پہلی بار پیش کی جا رہی ہے۔ اسے لندن اور جنوبی کوریا کے فلمی میلوں میں پہلے ہی دکھایا جا چکا ہے۔

فلم کے ہدایت کار ہنسل مہتا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’فلم ایک انسانی کہانی سے متعلق ہے، ایک ایسے شخص کو محض اس لیے اس کے ساتھیوں نے ترک کر دیا کیونکہ اس نے اس چیز کا انتخاب کیا جو اس کی اپنی پسند تھی۔‘

ان کہنا تھا: ’میرے خیال سے ’علی گڑھ‘ لوگوں کے ضمیر جھنجوڑےگی اور ان کو خود میں پائے جانے والے تعصب کو دکھائےگی۔‘

یہ کہانی 64 سالہ سری نواس رام چندرن سیرس کی ہے جو علی گڑھ میں پڑھاتے تھے۔ سنہ 2010 میں ایک ٹی وی نیوز چینل نے رکشہ چلانے والے ایک شخص کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے ہوئے ان کی فلم بنا لی۔

اس واقعے کے بعد سرسا اپنے مکان میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کئي افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن ناکافی ثبوتوں کی بنا پر بعد میں سب کو رہا کر دیا گیا۔

بالی وڈ کی فلموں میں عام طور پر ہم جنسی کے مضوع پر مبنی کرداروں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس نوعیت سے یہ فلم قدرے مختلف ہے۔

فلم کے ایڈیٹر اپوروا اسرانی کا کہنا ہے کہ ’بہت کم فلمیں اس موضوع پر کھل کر بات کرتی ہیں، یا تو لوگ اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا پھر اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کا مذاق بناتے رہتے ہیں۔‘

بھارت کے سنیما گھروں میں نمائش سے قبل اس فلم کو سینسر بورڈ سے منظوری ملنا ضروری ہے۔

بھارت میں ہم جنسی اب بھی غیر اخلاقی عمل ہے اور قانون کی نظر میں ایک جرم ہے جس کے لیے دس برس تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں