مصنفین کا خط، ’مودی سے آزادیِ اظہار پر بات کی جائے‘

دو سو سے زیادہ مصنفین جن میں سلمان رشدی، وال مک ڈرمِڈ اور این مک ایون شامل ہیں نے ایک خط کے ذریعے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نریندی مودی سے بھارت میں ’خوف کے بڑھتے ہوئے ماحول‘ کو کم کرنے پر زور دیں۔

مصنیفن کی جانب سے لکھے گئے خط کو بین انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے۔

مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس

بھارت کے ادبی حلقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری

بھارت: بنیاد پرستی کے مخالف ماہرِ تعلیم کا قتل

ان مصنفین نے اس خط کے ذریعے بھارت میں ’بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور تشدد‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اور کہا ہے کہ مودی ’آزادیِ اظہار کے تحفظ‘ کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون پر زور دیا ہے کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ دورۂ برطانیہ کے دوران ہونے والی اپنی ملاقاتوں میں اس مسئلے کو اٹھائیں۔

اس خط میں بھارت کے مصنفین کو گذشتہ دو سالوں میں دی جانے والی دھمکیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے تقربیاً 40 ناول نگاروں، شاعروں اور لکھاریوں نے بھارت کی نیشنل اکیڈمی آف لیٹرز کی جانب سے دیے گئے ساہتیہ اکیڈمی اعزازات کو بطور احتجاج واپس کر چکے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے اس خط کے حوالے سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں