’شیکسپیئر معاشرے میں اعلیٰ مالی حیثیت کے حامل تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس منصوبے کے لیے برٹش کونسل، لندن کے میئر اور ایک نامعلوم عطیہ کنندہ کی مدد سے گلوب کو پانچ لاکھ یورو ادا کیے گئے ہیں

انگلینڈ میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ برطانوی شاعر اور ناول نگار ولیم شیکسپیئر کے تباہ شدہ مکان کے مقام کی کھدائی سے ملنے والے آثار ان کی زندگی کے بارے میں ہماری معلومات کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔

ان آثار سے پتا چلتا ہے کہ سٹریٹ فورڈ اپون ایون میں ان کےمکان نیو پیلس میں 20 کمرے تھے، جن میں ایک بڑا باورچی خانہ اور شراب خانہ بھی شامل تھا۔

شیکسپیئر کے ڈراموں پر مختصر فلمیں

لندن میں شیکسپیئر فیسٹیول کا آغاز

لندن اولمپکس کے موقع پر اردو میں شیکسپیئر

ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں ایک اعلیٰ مالی حیثیت رکھتے تھے۔

اس مکان کو 1759 میں اس کو خریدنے والے شخص ریویرینڈ فرانسس گیسٹرل نے مسمار کروا دیا تھا جو آئے دن اپنے گھر پر شیکسپیئر کے مداحوں کی آمد سے ناراض رہتا تھا۔

شیکسپیئر کو آج بھی انگریزی زبان کا سب سے بڑا شاعر اور ادیب مانا جاتاہے۔

شیکسپیر کی جائے پیدائش کی ٹرسٹ کے ایک ترجمان ڈاکٹر پال ایڈمنسن نے بتایا کہ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیکسپیئر بہت سفر کیا کرتے تھے اور اپنا وقت سٹریٹ فورڈ میں اپنے آبائی گھر اور لندن میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے درمیان صرف کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں نیو پیلس سے ملنے والی معلومات کے بعد شیکسپیئر کی سوانح عمری کی جو تصویر سامنے آرہی ہے اس سے لگتاہے کہ شیکسپیئر اپنے کام کے لیے بہت سفر کیا کرتے تھے۔ ان کا خاندانی گھر سٹریٹ فورڈ میں تھا جبکہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی لندن میں گزرتی تھی۔'

پال نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ شیکسپیئر کے آخری 26 ڈرامے نیو پیلس میں ہی لکھے گئے ہوں جہاں وہ 1597 سے 1616 میں اپنی وفات تک رہے۔

اسی بارے میں