بیٹلز سے منسوب آشرم عوام کے لیے کھول دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بھارت کے شہر رشی کیش میں مشہور میوزک بینڈ بیٹلز کی جانب سے روحانی طور پر سُکون کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک متروک مقام کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

بیٹلز سنہ 1968 میں اس 18 ایکڑ کے آشرم میں اپنا وقت مراقبے اور گانے لکھنے میں گزارتے تھے۔ اُن کے مشہور وائٹ البم کے بہت سے گانے یہیں لکھے گئے تھے۔

آشرم کو مہارشی مہیش یوگی نامی ایک بھارتی یوگی چلاتے تھے جن کا سنہ 2008 میں انتقال ہو گیا۔

گرو اور اُن کے پیروکاروں نے سنہ 1970 میں اس آشرم کو ترک کر دیا تھا۔

اس جگہ کو سنہ 2003 میں مقامی محکمہ جنگلات نے تحویل میں لے لیا تھا لیکن یہ پھر بھی دنیا بھر میں بیٹلز کے پرستاروں کے لیے توجہ کا مرکز بنی رہی۔

وہ عام طور پر چھُپ چُھپا کر اس کی دیواروں پر چڑھ کر یا پھر چوکیداروں کو چھوٹی موٹی رشوت دے کر اندر داخل ہوتے تھے۔

متروکہ آشرم شیروں کے لیے مختص علاقے کی سرحد پر واقع ہے۔ مراقبے کا ایک بڑا کمرا دیواروں پر رنگ برنگے نقش ونگار کے باعث توجہ کا مرکز ہے۔

حکام نے آشرم کو عوام کے لیے بدھ کے روز کھولا ہے اور بھارتی اور غیر ملکی سیاحوں سے یہاں جانے کے 150 سے 700 روپے لیے جا رہے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے ایک سینیئر افسر راجندر نوتیال نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اس مقام کی صفائی کر دی ہے اور اس کی پگڈنڈیوں کو پھولوں سے آراستہ کیا ہے۔ ہم کچھ باغیچے لگا رہے ہیں اور یہاں آنے والوں کے لیے کچھ بینچیں بھی نصب کی جا رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم آزمائشی طور پر یہاں ایک کینٹین اور کسی مقام پر یہاں کی نادر اشیا کی دکان بنانے کے متعلق بھی منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ہم اس جگہ کی دیہاتی شکل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم اُن کے مطابق حکام کی اجازت کے بغیر یہاں آنے والوں کو آشرم کی دیواروں پر نقش و نگار بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

بیٹلز نے سنہ 1968 میں اس جگہ تین ماہ پر مشتمل مراقبے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن کچھ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

بینڈ کے رنگو سٹار مرچ مصالحے والے کھانے کی شکایت کے ساتھ دس روز بعد ہی گھر واپس لوٹ گئے۔

پال میک کارٹنی ایک مہینہ ٹھہرے، جبکہ جان لینن اور جارج ہیریسن اچانک بغیر کسی اطلاع کے چھ ہفتوں بعد یہاں سے چلے گئے۔

رشی کیش میں بیٹلز کے مصنف پال سالٹزمین کا کہنا ہے کہ مقبول بینڈ نے اپنے یہاں قیام کے دوران 48 گانے لکھے۔

اس مقام کو سنہ 1957 میں حکومت نے گرو کو لیز پر دیا تھا، اور اس کے متروک ہونے کے بعد رفتہ رفتہ محکمہ قدرتی املاک کی جانب سے واپس تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں