’امن کے بغیر بھوک اور افلاس کا خاتمہ ممکن نہیں‘

پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں اور دانشوروں نے دونوں ممالک میں مذاکرات کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے موقف میں تبدیلی لانا ہوگی۔

اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی شرکت اور وزیر اعظم میاں نواز شریف سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کے اثرات کئی سو کلومیٹر دور کراچی میں جاری اٹھویں عالمی اردو کانفرنس میں بھی دیکھے گئے، جس میں بھارت سے بھی ادیب اور دانشور شریک ہیں۔

پاک بھارت تعلقات پر نشست میں انسٹی ٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی پروفیسر ہما بقائی کا کہنا تھا کہ دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ایٹمی قوتیں ہیں آپس میں لڑ نہ پڑیں ان میں صلح کرائی جائے لیکن ایٹم بم سے بھی خطرناک ہیں ان دونوں کے مائینڈ سیٹ۔ جو انھیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔

انھوں نے بتایا کہ سات مرتبہ حکومتوں میں مذاکرات ہوئے ہیں ہر بار یہ طے پاتا ہے کہ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے دراصل دونوں ممالک کے درمیان بہروں کی سی گفتگو ہوتی ہے اور مذاکرات میں تعطل کا فائدہ ہمیشہ نان سٹیٹ ایکٹر ہی اٹھاتے ہیں۔

ہما بقائی کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔

ہندوستان کے دانشور اور استاد شمیم حنفی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس امن کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ جنگوں کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا اب پر امن طریقے سے زندگی گزارنی چاہیے۔

نامور شاعر افتخار عارف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی منافرت ہندوستان سے زیادہ ہے۔

نامور صداکار اور ادیب رضا علی عابدی کا کہنا تھا کہ ایک بات بار بار سنتے چلے آرہے ہیں کہ آپ اپنا پڑوسی تبدیل نہیں کر سکتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک میں جو سیاست کی کھجلی ہے لوگوں کو اس کے ساتھ جینا پڑے گا۔

انھوں نے کہ دہشت گردی پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ دکھ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فہم و فراست کی کمی نظرآرہی ہے ۔ان کے مطابق انھوں نے حال میں ہندوستان کا دورہ کیا انھیں ہر جگہ بھوک افلاس اور اس کا درد نظر آیا۔

رضا علی عابدی نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کیا میاں نواز شریف کے کان میں کہتے رہے اور وہ کیوں گردن ہلاتے رہے یہ کبھی سامنے نہیں آتا عوام کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔

ہندوستان کے صحافی عبید صدیقی نے کہا کہ کشمیر اٹوٹ انگ اور شہہ رگ ہے کے موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا، دونوں ملکوں کی سیاسی جماعتیں اور اپوزیشن یہ اتفاق کرلیں حکومتوں کی تبدیلی سے مسائل کے حل کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔’اب ہمیں اشاروں میں گفتگو کر نے کے بجائے صاف گوئی سے کام لینا چاہیے۔‘

عبید صدیقی نے بتایا کہ ہندوستان میں ’را‘ کے سابق چیف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نواز شریف اور واجپائی کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل ہوتے ہوتے رہ گیا۔اس میں کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت بھی شامل تھی۔

Image caption عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کے اختتام پر تھیٹر ڈرامہ ’منٹو میرا دوست‘ پیش کیا گیا

کراچی یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا تھا کہ خطے کے حالات اب تک نہیں بدلے لیکن اب بہتری کے کچھ اشارے ملے ہیں، ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان علم اور کتابوں کا تبادلہ نہیں ہوتا جو خرابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

آرٹ کونسل آف پاکستان کی آٹھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن بھی تین کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ جن میں انور شعور کی ’ کلیات انور شعور‘صابر ظفر کی کتاب ’مذہب عشق‘ اور پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اختر وقار عظیم کی کتاب’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ شامل ہیں۔

تیسرے دن کی نشست میں ’ایک شام انور مسعود کے نام‘ بھی منائی گئی۔ انور مسعود نے شرکا کو بتایا کہ وہ تین زبانوں کو جانتے ہیں، ان کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ان کے بچوں کی مادری زبان اردو ہے اور تعلیم انھوں نے فارسی میں حاصل کی ہے۔

’ماں باپ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن اللہ کو دوسروں کی زندگی عزیز تھی، اس لئے ڈاکٹر تو نہ بن سکا لیکن ان کے لیے بہت لکھا۔‘

عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کے اختتام پر تھیٹر ڈرامہ ’منٹو میرا دوست‘ پیش کیا گیا، جس کی تحریر و ہدایت انور جعفری نے دی اور اداکاروں میں شیما کرمانی اور انور جعفری بھی شامل تھے۔ یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کی کہانی سے منسوب تھا۔

اسی بارے میں