فنکار آسان نشانہ ہیں: دیپیکا پاڈوکون

آٹھ برس پہلے شاہ رخ خان کی فلم ’اوم شانتی اوم‘ سے کریئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ دیپکا پاڈوکون اس دسمبر میں شاہ رخ کی فلم ’دل والے‘ کو اپنی فلم ’باجيراؤ مستانی‘ سے ٹکر دینے والی ہیں۔

لیکن دیپکا اسے کوئی تصادم نہیں مانتي اور ان کے حساب سے دونوں فلموں کو ان کے حصے کے ناظرین ملیں گے۔

فلم ’باجيراؤ مستانی‘ کی تشہیر کے سلسلے میں بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دیپکا نے اس فلم اور اپنی ذاتی زندگی سے وابستہ کئی مسائل پر بات کی۔

حال ہی میں بھارت میں عدم برداشت کے معاملے پر شاہ رخ خان اور عامر خان کو خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سنہ 2015 کے اوائل کے مہینوں میں ’مائی چوائس‘ نام کے ویڈیو کے تعلق سے دیپکا بھی تنازعات سے گھر گئی تھیں۔

دیپکا سمجھتی ہیں کہ فنکاروں کو جان بوجھ کر متنازع مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ’101 فیصد ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہم فنکاروں کو بہت آسانی سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

وہ تفصیل سے بتاتی ہیں ’سب سے پہلے ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے، پھر ہم جواب دیتے ہیں جو ہمیں صحیح لگتا ہے، اس پر کچھ لوگ متفق نہیں ہوتے اور ہم پر تنقید شروع ہو جاتی ہے۔‘

دیپکا کہتی ہیں کہ اداکاروں کا کام فلموں کے ذریعہ ناظرین کا دل بہلانا ہے لیکن بلاوجہ بیان بازی سے ہنگامے برپا کیے جاتے ہیں جو انتہائی غلط ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہی وجہ ہے کہ ہم سوالات سے بچتے ہیں اور بیان نہیں دیتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دیپکا کی آنے والی فلم ’باجيراؤ مستانی کے ساتھ بھی ایک تنازع شروع ہوتا نظر آ رہا ہے۔‘

حال ہی میں اس فلم کے پروموشن کے لیے دیپکا اور رن ویر سنگھ ’کامیڈی نايٹس ود کپل‘ میں گئے تھے اور وہاں بادشاہوں اور راجاؤں کا کافی مذاق اڑایا گیا تھا جو بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا۔

اس پر صفائی دیتے ہوئے دیپکا پاڈوکون کہتی ہیں: ’مجھے لگنے لگا ہے کہ لوگ آج کل بہت سنجیدہ ہو گئے ہیں اور ہم سب کو تھوڑا سا ٹھنڈا ہونا چاہیے۔‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے دیپکا کہتی ہیں کہ ’ہم سب لوگ ہر چیز پر بہت حساس اور جذباتی ہوگئے ہیں اور کیونکہ میں خود ڈپریشن سے گزر چکی ہوں تو اپنے تجربے سے سب کو یہ نصیحت کروں گی کہ زندگی بہت نازک ہے اور ہر چیز پر حساس ہو جائیں گے یا ہر بات کو پکڑ کر بیٹھیں گے تو خود کو ہی نقصان پہنچائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وہ کہتی ہیں کہ یہ مذاق مستی ایک الگ بات ہے لیکن فلم میں وہ کافی سنجیدہ ہیں اور اس فلم سے باجيراؤ مستانی کے بارے میں لوگوں کو بیدار کر رہی ہیں۔

دیپکا کہتی ہیں: ’میں خود تاریخ کی طالبہ رہی ہوں اور میں نے کبھی باجيراؤ مستانی کے بارے میں نہیں پڑھا تھا۔ ایسے میں ہمیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ہماری آنے والی نسل ان کے بارے میں کچھ تو جان پائے گی۔‘

اسی بارے میں