’کاسٹنگ کاؤچ شوبز کی ایک حقیقت ہے‘

Image caption رنویر سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں بھی جنسی تعلقات بنانے کی پیش کش ہوئي تھی

بالی وڈ میں کاسٹنگ کاؤچ کا چرچا ہمیشہ سے ہی رہا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے واقعات عام ہیں اور کچھ اسے افواہ کہتے ہیں۔

حال ہی میں اداکار رنویر سنگھ نے ایک چونکا دینے والا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ کاسٹنگ کاؤچ شوبز کی ایک انتہائی گھناؤنی اور افسوس ناک حقیقت ہے اور انھیں خود اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔

بالی وڈ راؤنڈ اپ سننے کے لیے کلک کریں

رنویر سنگھ کا کہنا ہے کہ جب وہ فلمی دنیا میں جدو جہد کر رہے تھے تو ایک شحص سے ان کی ملاقات ہوئی اور اس شخص نے ایک پروڈکشن ہاوس تک رسائی کے بدلے ان سے جنسی مراسم بنانے کے لیے کہا لیکن انھوں نے صاف انکار کر دیا۔

رنویر کا کہنا تھا اس شخص نے ان کے پورٹ فولیو پر نظر تک نہیں ڈالی اور انھیں اس طرح کی پیشکش کر ڈالی۔ کاسٹنگ کاؤچ کے بارے میں ہمیشہ سے ہی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ رنویر سنگھ نے سنہ 2010 میں فلم بینڈ باجا بارات سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سال تک رنویر نے اس واقعے کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ یہ بیان ایک ایسے وقت میں دینے کا مطلب کہیں پبلیسٹی تو نہیں جب ان کی فلم ’باجی راؤ مستانی‘ ریلیز ہو رہی تھی۔ بالی ووڈ میں سب ممکن ہے۔

سوناکشی کیا بننا چاہتی تھیں

تصویر کے کاپی رائٹ Niluer qureshi
Image caption سوناکشی سنہا خلاباز بننا چاہتی تھیں

اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک ہیروئن اپنے کسی ڈایئلاگ کی وجہ سے مشہور ہو سکتی ہے جیسا کہ ان کے ساتھ ہوا۔

سوناکشی کہتی ہیں کہ اکثر ہیروز کے ڈایئلاگ مشہور ہوتے ہیں خواہ وہ امیتابھ بچن ہوں یا شاہ رخ، سلمان یا پھر ان کے والد شتروگھن سنہا ہوں۔

سوناکشی کہتی ہیں کہ اداکارہ بننے کے علاوہ انھیں کئی شعبوں میں دلچسپی رہی ہے۔ وہ کھیلوں میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں۔ پھر انھیں کوسٹیوم ڈیزائن کا شوق ہوا، انھوں نے وہ بھی کر کے دیکھا لیکن حقیقت میں وہ اداکارہ نہیں بلکہ ایک خلا باز بننا چاہتی تھیں۔

ویسے سوناکشی یہ تمام شوق تو آپ صرف ہیروئن بن کر ہی پورے کر سکتی ہیں ان کرداروں کو نبھا کر۔ اور جہاں تک خلا باز بننے کا تعلق ہے تو وزن تو آپ کو اس کے لیے بھی کم کرنا پڑتا۔

انوملک کا مذاق

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption موسیقار اور گلوکار انوملک اپنے اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ

ایک کہاوت ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے اور لگتا ہے کہ موسیقار اور گلوکار انو ملک بھی اسی کہاوت میں یقین رکھتے ہیں۔

ہوا یوں کہ حال ہی میں ایک ایوارڈ تقریب میں انھیں فلم ’پیار کا پنچ نامہ ٹو‘ کی اداکارہ نشرت بھروچا کو ایوارڈ دینے کے لیے بھیجا گیا۔اب ملک صاحب نے نام پڑھنے کے لیے لفافہ کھولا اور نشانت بھنڈاری کے نام کا اعلان کر ڈالا جس پرتالیوں کے بجائے خاموشی چھا گئی۔

پھر کیا تھا فلم کے ڈائریکٹر لو رنجن جلدی سے اٹھ کر سٹیج پر گئے اور ملک صاحب کو بتایا کہ یہ نشانت بھنڈاری نہیں بلکہ نشرت بھروچا ہیں۔

لوگوں کا خیال تھا کہ اس وقت ملک صاحب نے غالباً اپنا چشمہ نہیں پہنا تھا۔ یہ واقعہ مذاق کا موضوع بنا تو انو ملک نے سارا الزام آرگنائزرز کے سر دے مارا ان کا کہنا تھا کہ انھیں غلط نام لکھ کر دیا گیا۔

شاہ رخ اور تنازعات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شاہ رخ کا کہنا ہے وہ تنازعات سے متاثر نہیں ہوتے

بالی وڈ کے ’بادشاہ‘ شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ تنازعات کبھی بھی فلم، شہرت اور نام کو متاثر نہیں کرتے۔ شاہ رخ سے جب ان سے منسلک تنازعات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ لوگ پبلیسٹی کے لیے کئی بار بڑی شخصیات کے کندھوں کا استعمال کرتے ہیں۔

شاہ رخ کا کہنا ہے اس طرح کے تنازعات انھیں متاثر نہیں کرتے اور یہ کہ وہ ایک آرٹسٹ ہیں اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ بھارت میں عدم رواداری سے متعلق بحث میں شاہ رخ کے بیان پر بڑا تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

شاہ رخ اور کاجول کی فلم ’دل والے‘ کی ریلیز سے پہلے مہاراشٹر میں ’نو نرمان سینا‘ نے ان کی فلم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ مشہور شخصیات کے حوالے سے تنازع کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک کہاوت یہ بھی ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

اسی بارے میں