پاکستانی ٹی وی کا ’فادر‘ چلا گیا

Image caption اسلم اظہر پاکستانی ٹیلی ویثرن کے پہلے ایم ڈی تھے

51 برس پہلے 26 نومبر سنہ 1964 کو ریڈیو پاکستان لاہور کے پچھواڑے میں جس 30 رکنی ٹیم نے ایک ٹینٹ سے پاکستان ٹیلی ویژن کی آزمائشی نشریات کا آغاز کیا اس پروڈکشن بٹالین کے کمانڈر اسلم اظہر تھے جو بعد ازاں پی ٹی وی کے پہلے مینجنگ ڈائریکٹر بنے۔( آج پی ٹی وی چھ ہزار سے زائد ملازموں اور نو چینلوں کا نام ہے )۔

اسلم اظہر ستمبر 1932 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔گوریمنٹ کالج میں تھیٹر کیا، تقریریں فرمائیں اور پھر کیمبرج یونیورسٹی سے قانون میں آنرز کیا۔ واپس آ کر برما آئل کمپنی میں نوکری شروع کی اور چٹاگانگ میں تعینات ہوئے۔ دو برس بعد اچانک خیال آیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے ؟ یعنی پڑھو فارسی اور بیچو تیل۔

چنانچہ نوکری چھوڑ دی اور کراچی آ کر محکمۂ اطلاعات کے لیے بطور فری لانسر دستاویزی فلمیں بنانی شروع کردیں۔ اپنے دوست اور فلم ساز فرید احمد کے ساتھ مل کے کراچی آرٹس اینڈ تھیٹر سوسائٹی بنائی۔ تھیوسوفیکل ہال میں ڈرامے کیے۔ تھیٹر کرتے کرتے نسرین جان سے ملاقات ہوئی اور کچھ عرصے بعد وہ نسرین اظہر ہوگئیں۔

1962 میں لاہور کے معروف صنعت کار سید واجد علی نے جاپان کی نیپون الیکٹرک کمپنی ( این ای سی ) اور برطانوی کمپنی تھامس انٹرنیشنل کے تعاون سے نجی شعبے میں تجرباتی ٹی وی ٹرانسمیشن شروع کی۔

ایوب خان حکومت ٹی وی کے میڈیم کو پروپیگنڈے کے جدید ہتھیار کے طور پر سمجھ گئی۔ این ای سی نے بھی حکومتِ جاپان کی رضامندی سے دستِ تعاون بڑھایا۔

ایک جاپانی نے اسلم اظہر سے کہا تین مہینے کا پائلٹ پروجیکٹ ہے ڈائریکٹر پروگرامنگ بن جاؤ۔ اسلم اظہر نے کہا مجھے تو ککھ نہیں پتہ یہ ٹی وی ہوتا کیا ہے بس ایک بار 1961 میں کراچی کی ایک صنعتی نمائش میں دور سے دیکھا تھا۔جاپانی نے کہا یہاں کسی کو بھی ککھ نہیں پتہ لہذا اتنا تجربہ کافی ہے۔ چنانچہ اسلم اظہر ٹی وی کی دنیا میں داخل ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لاہور کے بعد 1965 میں ڈھاکہ اور 1967 میں کراچی و اسلام آباد اور 1974 میں پشاور اور کوئٹہ سے نشریات شروع ہوئیں۔

ابتدا میں تین گھنٹے کی لائیو نشریات ہوتی تھیں اور پیر کو چھٹی۔ اب ہفتے میں 18 گھنٹے کا نشریاتی پیٹ کیسے بھریں؟ لہذا ایسے لکھاریوں کی تلاش شروع ہوئی جو ڈرامے بھی لکھ سکیں ۔پہلے مرحلے میں اشفاق احمد ، بانو قدسیہ اور ڈاکٹر انور سجاد جیسے نام ہاتھ آگئے، بعد میں انتظار حسین ، شوکت صدیقی ، منو بھائی حتی کہ ڈاکٹر جاوید اقبال تک اس قلمی کہکشاں کا حصہ بنتے چلے گئے۔ پھر تو چل سو چل۔۔۔

کمال احمد رضوی ، آغا ناصر اور نثار حسین وغیرہ نے ڈرامائی تشکیل شروع کردی۔ ریڈیو پاکستان کے ذخیرے سے طارق عزیز سمیت کئی صداکار اداکار بنانے کی نیت سے اٹھائے گئے۔ یوں عام آدمی کو بیگم خورشید شاہد ، نئیر کمال ، کنول نصیر ، طلعت حسین ، محمود علی ، سبحانی بائی یونس ، قاضی واجد، رفیع خاور ننھا ، محمد قوی خان ، جیسے ناموں سے آشنائی ہوئی اور پھر یہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کا حصہ بن گئے۔

نسرین نے اپنے شوہر ( اسلم اظہر ) کو عورتوں اور بچوں کی دلچسپی کے پروگرام کے آئڈیاز سجھانے میں مدد دی۔ آہستہ آہستہ پاکستانی مڈل کلاس کو احساس ہونے لگا کہ شو بزنس اتنی بری شے بھی نہیں جتنی کہ بتائی جاتی رہی ہے۔ الف نون ، خدا کی بستی ، امپورٹیڈ جاسوسی و سماجی انگریزی سیریز اسی دورِ اولین کی دین ہیں جب کام میں سنجیدگی ، صحتِ زبان اور معیاری سکرپٹ سکہ رائج الوقت اور پھکڑ پن ابھی حالتِ نوزائیدگی میں بھی نہ تھا۔

ابھی تو افغانستان ، چین ، ایران اور بھارت بھی ٹی وی نشریات سے کوسوں دور تھے اور پاکستان میں ٹی وی کلچر پروان چڑھ رہا تھا۔ لاہور کے بعد 1965 میں ڈھاکہ اور 1967 میں کراچی و اسلام آباد اور 1974 میں پشاور اور کوئٹہ سے نشریات شروع ہوئیں۔

1976 میں یہ نشریات رنگین ہوگئیں۔سنہ 1968 تا 1976 کے آٹھ برس میں پاکستانی ٹی وی ڈرامہ اور تعلیمی و معلوماتی پروگرام معیار کے اعتبار سے سر چڑھ کے بول رہے تھے۔

پھر بھٹو حکومت میں کوثر نیازی کی وزارِت ِ اطلاعات نے کچھ ایسے حالات پیدا کردیے کہ اسلم اظہر کو ٹی وی کی باگ ڈور بادلِ نخواستہ چھوڑنا پڑی۔ مگر جیسے ہی جنرل ضیا الحق کا مارشل لا لگا پرانا والا اسلم اظہر اور نسرین پھر سے جوان ہوگئے۔

1982 میں بے لوث ٹریڈ یوننیسٹ و مارکسسٹ تھیٹرسٹ منصور سعید ( ثانیہ سعید کے والد) اور صنعتی مزدوروں کے ساتھ مل کے دستک گروپ کی بنیاد رکھی گئی۔ یوں پاکستان کے پہلے منظم پولٹیکل تھیٹر گروپ نے بریخت کے کھیلوں کے ذریعے سیاسی مزاحمت کا راستہ چنا۔

Image caption اسلم اظہر 29 دسمبر 2015 میں انتقال کر گئے

مجھے یاد ہے 1985 میں مارشل لا کے عین عروج میں کراچی کے ریو سینما کے سٹیج پر بریخت کا کھیل گیلیلیو کھیلا گیا۔ ترجمہ اور ڈرامائی تشکیل منصور سعید نے کیے۔ گیلیلیو کا مرکزی کردار اسلم اظہر نے ادا کیا۔ اس گلیلیو نے پاٹ دار آواز میں مسلسل دو ہفتے دیوانے نوجوانوں سے کھچا کھچ بھرے ہال میں مذہبی آمریت کے خلاف بولے جانے والے ایک ایک مکالمے پر منوں ٹنوں تالیاں سمیٹیں۔

دستک کے پلیٹ فارم سے مزدوروں کے لیے یکم مئی 1986 کو بریخت کا کھیل ’سینٹ جان آف دی سٹاک یارڈ‘ کراچی کے تین مختلف مقامات پر پیش کیا گیا اور مجموعی طور پر نو ہزار صنعتی مزدوروں نے دیکھا۔ اسی طرح بریخت کا ایک اور کھیل ’ہی ہو سیز یس ، ہی ہو سیز نو‘ پہلی بات ہی آخری تھی کے نام سے پیش ہوا۔

دستک کے ان کھیلوں کی خاص بات یہ تھی کہ تیس روپے کا ٹکٹ ہر تھیٹر باز کی دسترس میں تھا۔ مارشل لا انتظامیہ بریخت کے نام سے تو نہیں البتہ اتنے سستے ٹکٹ سے ضرور چونک گئی کہ ہو نہ ہو تھیٹر کی آڑ میں دال میں کچھ کالا ہے۔ چنانچہ نگرانی بڑھا دی گئی۔

2010 میں اسلم اظہر کا ایک انٹرویو روزنامہ ڈان میں شائع ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ نئے اور پرانے ٹی وی ڈرامے میں وہی فرق ہے جو ہاتھ سے بنے قالین اور فیکٹری میں تیار ہونے والے قالین میں ہے۔ لہذا وہ ایک عرصے سے بس کتابیں پڑھتے ہیں۔

اسلم اظہر کا ذاتی مکان نہ تھا۔ کہتے تھے زندگی سخت ہے مگر اسی میں مسرت بھی تو ہے۔ کل ( 29 دسمبر ) انھوں نے بالاخر اپنے لیے مستقل مکان کا انتظام کر ہی لیا۔

اسی بارے میں