’راحت پاکستانی ہیں براہِ راست حیدرآباد نہیں آ سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ rahat fateh ali khan
Image caption ابو ظہبی سے راحت فتح علی خان دوباہ دلی آئے اور پھر وہاں سے حیدرآباد گئے اس کی وجہ سے ان کا پروگرام جمعرات کی رات کو آٹھ بجے کے بجائے گیارہ بجے شروع ہوا

پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان کو اس وقت بھارت سے واپس متحدہ عرب امارات جانا پڑا جب حکام نے انھیں حیدرآباد کے ہوائی اڈے سے ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔

راحت جمعرات کو سال نو کے موقع پر ہونے والی ایک تقریب میں پرفارمنس کے لیے ابوظہبی سے حیدرآباد پہنچے تھے۔

راحت فتح علی دہلی میں زیرِ حراست

ان کا پروگرام شہر کے تاج فلک نما ہوٹل میں طے تھا لیکن انھیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ یہ قدم محض تکنیکی وجہ سے مجبوراً اٹھانا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امیگریشن اصولوں کے مطابق پاکستانی شہریوں کے لیے حیدرآباد کے ایئرپورٹ سے بھارت میں داخلہ ممنوع ہے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ ’فضائی سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے بھارت میں داخلے کے لیے دہلی، ممبئی، کولکتہ اور چنّئی کے ہوائی اڈوں کے علاوہ کسی دوسری جگہ سے داخلے کی اجازت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ayush
Image caption بھارت میں اس طرح کا نظام پاکستانی شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا جس پر سختی عمل کیا جاتا ہے

حکام کے مطابق اسی لیے پاکستانی گلوکار کو ایئر پورٹ سے ہی واپس ابو ظہبی بھیجنا پڑا تاکہ وہ ملک میں اس جگہ سے داخل ہو سکیں جہاں سے اس کی اجازت ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایئر پورٹ کے ایک افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر کوئی بھی پاکستانی شہری ان چار جگہوں کے علاہ اترے تو قانونی طور پر اس کی آمد کا اندراج نہیں کیا جا سکتا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ ان چار ایئر پورٹس کا انتخاب کیا جائے۔

بھارت میں اس طرح کا نظام پاکستانی شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا جس پر سختی عمل کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق واپسی کے بعد راحت فتح علی خان ابوظہبی سے دوبارہ دلی آئے اور پھر وہاں سے حیدرآباد گئے۔ پرواز کی تبدیلی کی وجہ سے ان کا پروگرام جمعرات کی رات کو تاخیر سے شروع ہوا۔

خیال رہے کہ راحت فتح علی ماضی میں بھی بھارت میں ہوائی اڈے پر مسائل کا شکار رہ چکے ہیں اور سنہ 2011 میں انھیں دہلی کے اندار گاندھی ہوائی اڈے پر اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے قبضے سے غیرملکی کرنسی برآمد ہوئی تھی۔

اسی بارے میں