سنی لیونی بھارت میں رواداری کی مثال ہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فلم ’منا بھائی‘ ’3 ایڈیٹس‘ اور ’پی کے‘ جیسی بلاک بسٹر فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے میڈیا کے کام کرنے کی انداز پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ میڈیا کو زیادہ ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں راجکمار ہیرانی نے کہا کہ اکثر ٹی آر پی بڑھانے کے لیے میڈیا تنازعہ تلاش کرتا ہے۔ حال ہی میں فلمی دنیا کی کئی ہستیاں اپنے بيانات سے تنازعہ میں گھرتی نظر آئی ہیں۔

عامر خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے راجکمار ہیرانی نے کہا کہ عامر نے اتنی ساری چیزوں پر بات کی لیکن اس میں سے ایک متنازعہ بات ہی رپورٹ کی گئی۔ ویسے راجکمار ہیرانی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میڈیا بھی کہیں کہیں فلمی انداز میں خبریں رپورٹ کرنے لگا ہے جس میں ایکشن، اموشن اور سسپینس سبھی کچھ ہوتا ہے۔

Image caption ادیتی کا کہنا ہے کہ رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیلنٹ اہم ہوتا ہے ظاہری حسن نہیں

بھارت میں رواداری کی ایک زبردست مثال موجود ہے اور وہ ہیں پورن سٹار سنی لیو نی اور وہ خِود اس بات کو مانتی ہیں۔

فلم ’جسم 2‘ کے ساتھ بھارتی فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی کینیڈا نژاد اداکارہ نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں آپ جو محسوس کرتے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’لوگوں کی منظوری کی میں خود ایک مثال ہوں، جب میں یہاں رہ سکتی ہوں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے لوگ کتنے کھلے خیالات کے ہیں۔‘

سنی بالکل درست کہا آپ نے بھارت میں آپ کی مقبولیت کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے کیونکہ آپ بھارت میں ویڈیوز میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی واحد شخصیت جو ہیں۔

فلم ’وزیر‘ سے اپنی پہچان بنانے والی ادیتی راؤ حیدری اچانک سے سمجھداری کی باتیں کرنے لگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ہیروز کے وزن کے بارے میں کچھ نہیں کہتے جبکہ ہیروئین کے وزن پر فوراً سوال اٹھائے جاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی فلموں میں ہیروئین کو صرف ایک نمائش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Spice

ادیتی کا کہنا ہے کہ اس رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیلنٹ اہم ہوتا ہے ظاہری حسن نہیں۔ بات تو ٹھیک ہے لیکن ادیتی نے جی کیو میگزین کے لیے بکنی فوٹو شوٹ کیا تھا اس میں ٹیلنٹ کی کتنی ضرورت تھی یہ تو خود ادیتی ہی بتا سکتی ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کسی بھی مسئلے پر بولنا تو بہت آسان ہے لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو یہ سارے بڑے بڑے خیالات کھڑکی کے راستے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جب تک اداکارائیں برفباری کے منظر میں گرم کوٹ پہنے ہیرو کے ساتھ شفون کی ساڑی میں گانا گانے کے لیے تیار رہیں گی رویوں میں تبدیلی کی بات کرنی بیکار ہے۔

کافی عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شاہ رخ اور عالیہ بھٹ پردے پر رومانس کرتے نظر آ سکتے ہیں۔ جب شاہ رخ سے یہ سوال کیا گیا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض تو نہیں تو شاہ رخ کا کہنا تھا کہ ’وہ عالیہ سے زیادہ جوان ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شاہ رخ اور عالیہ بھٹ پردے پر رومانس کرتے نظر آ سکتے ہیں

یقیناً شاہ رخ نے یہ بات مذاق میں کہی تھی لیکن لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں عمر کے فرق پر زیادہ زور اب نہیں رہا اور یہ بات صرف ہیرو نہیں بلکہ ہیروئینز پر بھی لاگو ہورہا ہے ورنہ قطرینہ کیف فلم فطور میں ادتیہ رائے کپور اور قرینہ کپور فلم ’کی اینڈ کا‘ میں ارجن کپور سے رومانس کرتی نہ نظر آتیں۔

امید کرتے ہیں کہ اسی طرح ادیتی راؤ حیدری کے خیالات کا بھی بھرم پورا ہو جائے اور ہم پردے پر بھاری بھرکم ہیروئینوں کو پتلے دبلے ہیروز کے ساتھ رومانس کرتے دیکھ سکیں۔

بالی ووڈ میں جہاں بڑے ستاروں اور بڑے بینرز کی جانب سے میعاری فلمیں پردے پر آ رہی ہیں وہیں انڈسٹری میں سیمی پورن فلموں کی ایک متوازی انڈسٹری بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور سینسر بورڈ بھی دس پندرہ کٹس کے بعد ایسی فلموں کی ریلیز کی اجازت دینے لگا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال فلم’ کیا کول ہیں ہم تھری‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شاہ رخ کا کہنا تھا کہ وہ تو ابھی عالیہ بھٹ سے زیادہ جوان ہیں

سینسر بورڈ نے اس فلم کے 34 مناظر کاٹنے کا حکم دیکر اے سرٹفکیٹ کے ساتھ فلم کی ریلیز کی اجازت دیدی ہے۔ یہ فلم 22 جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے۔ اس کا ٹریلر دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کیا سینسر بورڈ نے واقعی یہ فلم دیکھی ہے۔

فلم صرف بالغوں کے لیے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایڈلٹ فلم کے نام پر کسی بھی بے سر پیر کی بھونڈی کامیڈی دکھانے کی اجازت ہے اور معاشرہ اس طرح کی فلموں کو ہضم کرنے کے لیے تیار ہے بھی یا نہیں کیونکہ سنیما حالوں میں کم عمر نوجوانوں کو فلم دیکھنے سے تو باز رکھا جا سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر کیسے روک لگائیں گے۔

لگتا ہے کہ فلم کے نام کی طرح اب سینسر بورڈ بھی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے’کیا کول ہیں ہم۔‘

اسی بارے میں