نئی دہلی میں سٹریٹ آرٹ کا جشن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی کئی سڑکوں پر آج کل مصور بے جان دیواروں کو خوبصورت پینٹنگز کی شکل دے رہے ہیں۔ یہ سٹریٹ آرٹ کا جشن ہے جس میں کئی غیر ملکی مصور بھی شریک ہیں۔

غیر سرکاری ادارے سٹارٹ (سٹریٹ اور آرٹ) اور وفاقی حکومت نے مل کر یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ سٹریٹ آرٹ کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے جس کے ساتھ ہی یہ پیغام دینے کا ایک بہانہ بھی کہ اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھیں۔ نوجوان مصور انپو ایک ہائیڈرولک لفٹ پر کھڑی ہیں۔ زمین سے تقریباً 30 فٹ کی اونچائی پر وہ ایک دیوار کو ایک بڑے اور رنگ برنگے درخت کی شکل دے رہی ہیں۔ شدید سردی میں دہلی کی لودھی کالونی کی اس بے رنگ دیوار سے بہار پھوٹ رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’یہ تو شروعات ہے۔ لوگ پہلی مرتبہ ایسی آرٹ دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی راہ گیر چند لمحوں کے لیے بھی رک کر میری پینٹنگ دیکھے تو مجھے خوشی ملے گی۔ کئی مرتبہ لوگ آ کر کہتے ہیں کہ انھیں پینٹنگ اچھی لگی، کبھی آپس میں بات کرتے ہیں کہ یہ آخر ہے کیا اور یہ ہی آرٹ کا مقصد ہے کہ لوگ اسے دیکھیں اور اس کے بارے میں بات کریں۔‘ جگہ جگہ مصور اپنے ہنر سے اس علاقے کا حلیہ بدل رہے ہیں۔ قریب ہی ایک اور سڑک پر راجستھانی آرٹسٹ مہیندر کمار کے ساتھ دہلی کے کچھ بڑے کالجوں کی طالبات بھی ایک قوم کا ذوق جگانے اور سوچ بدلنےکی کوشش کر رہی ہیں۔

ان میں ہرشیتا شرما بھی شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’یہ آرٹ کو گیلریوں سے باہر لانے کی کوشش ہے تاکہ سب لوگ اس سے لطف اندوز ہوسکیں۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ اگر آپ کی سڑکوں پر اتنی خوبصورتی ہوگی تو لوگ اپنی جانب سے بھی کوشش کریں گے کہ گندگی نہ پھیلائیں۔ اگر کوئی خالی دیوار ہے تو وہاں لوگ تھوک کر چلے جاتے ہیں لیکن اگر وہاں کوئی پینٹنگ بنی ہوگی تو آپ ایسا کرنے سے پہلے ایک بار تو سوچیں گے۔‘

ہر پینٹنگ میں ایک پیغام ہے ایک دیوار پر ایک بڑے ہاتھی کے دانتوں نے پیڑ کی شاخوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس پینٹنگ میں جنگل اور جنگلی حیات کے تحفظ کو مرکزی خیال بنایا گیا ہے۔

اس کے مصور راکیش کمار کہتے ہیں ’لوگ آ کر پینٹنگز کے بارے میں پوچھتے ہیں، مشورے بھی دیتے ہیں۔ انھیں یہ ماننے میں دشواری ہوتی ہے کہ حکومت بھی ایسا کام کرسکتی ہے؟‘ دہلی کے رش والے علاقے تغلق آباد میں بھی ایک غیر معمولی نمائش کی تیاری ہے۔ یہاں ایشیا کا سب سے بڑا ان لینڈ کنٹینر ڈپو واقع ہے۔ چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے کنٹینر ہی نظر آتے ہیں۔ اس ڈپو کے ایک حصے کو اوپن ایریا یا کھلی ہوئی آرٹ گیلری میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں مصور یہاں کام کرنے والوں کے سامنے اپنا ہنر دکھائیں گے۔

سٹریٹ آرٹ فاؤنڈیشن سے وابستہ جولیا امبروگی کہتی ہیں ’ہم اس نمائش کے لیے 100 سے زیادہ کنٹینر استمال کریں گے۔ یہاں روزانہ پینٹر اپنا ہنر دکھائیں گے اور لوگ انھیں پینٹنگ کرتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ یہ ہی ہمارا مقصد ہے۔ یہ بہت مصروف علاقہ ہے اور ہم یہاں کام کرنے والوں کو آرٹ کی دنیا کی ایک جھلک دکھانا چاہتے ہیں۔‘