’جیل ڈائریاں سندھی ادب کا نایاب حصہ‘

سندھی صحافی اور مصنف مرتضیٰ سیال نے کہا ہے کہ سندھ کے سیاسی قیدیوں کی جانب سے ماضی میں لکھی جانے والی جیل ڈائریاں سندھی ادب کا نایاب حصہ ہیں اور انھیں دوسری زبانوں میں ترجمے کروا کے چھپوانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے اندر اور باہر کے لوگوں کو اسیری کے دوران لکھے جانے والے شاہکار ادب تک رسائی حاصل ہو۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان ڈائریوں میں ایک پورے دور کی تاریخ محفوظ ہے اور ان میں نہ صرف اس دور کے انفرادی اور سماجی کرب کا اظہار ملتا ہے بلکہ آج کے ایشوز کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

’جیل ڈائریوں کی بہت اہمیت ہے۔ انھی ڈائریوں سے دنیا کو پتہ چلا کہ سندھ میں جیلوں میں کیا ہوتا رہا اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ کیا برتاؤ ہوا۔ الفاظ جب چھپتے ہیں یا نشر ہوتے ہیں تو دنیا کو اس کا علم ہوتا ہے اور اس سے رائے عامہ ہموار ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اختر بلوچ پہلی سندھی عورت تھیں جو جیل گئی تھیں اور انھوں نے جیل ڈائری لکھی۔ جنرل ضیاء کا دور تھا اور میں آٹھویں جماعت میں تھا اور اس ڈائری کو پڑھ کے روتا تھا۔ اس میں اتنا اثر تھا اور کمال کی عکاسی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سماج ان چیزوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو آپ جیلوں میں بند کریں اور اس طرح سے سلوک کریں تو ان ڈائریوں کا بڑا اثر ہوتا ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ جو لولی لنگڑی جمہوریت ہمارے یہاں ہے، اس میں لٹریچر کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سیاسی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے اور ہمارے رائٹرز کا بھی ہاتھ ہے اور جیل ڈائریاں اس کا اہم حصہ ہیں۔‘

مرتضیٰ سیال نے کہا کہ ’ہمارے یہاں جیل کی ڈائریاں چھپی ہیں مگر ایک المیہ ہے کہ ان کا دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں ہوا اس کی وجہ سے پاکستان کے دوسرے علاقوں یا پاکستان سے باہر ان تک رسائی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ترجمے کا کام ہوا ہے مگر اس سطح کا نہیں ہوا کہ ہمارے ادب کی شاہکار چیزیں خاص طور پر جیل ڈائریاں ساری دنیا تک پہنچ سکیں۔

ان کے بقول یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے جبکہ کتابیں انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ ’ آپ کتابوں کے ترجمے کرکے ان کی سافٹ کاپیاں انٹرنیٹ پر رکھ سکتے ہیں تو اس پر کام ہونا چاہیے۔‘

Image caption مرتضی سیال کی تازہ کتاب سندھ جی سانجاہ کھان سوال (سندھ کی دانش سے سوال) ہے جو نامور سندھی ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہے

تاہم انھوں نے کہا کہ سندھ میں اداروں کی بھی کمی ہے اور سندھی ادبی بورڈ، سندھی لینگویج اتھارٹی اور وفاقی اردو بورڈ جیسے ادارے اس پر توجہ دیں کہ سندھی کے شاہکار ادب کے دوسری زبانوں میں ترجمے کرائیں اور دوسری زبانوں کے شاہکار ادب کا پاکستانی زبانوں میں ترجمے کرائیں۔

مرتضی سیال کی تازہ کتاب سندھ جی سانجاہ کھان سوال (سندھ کی دانش سے سوال) ہے جو نامور سندھی ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہے۔

کتاب میں جن ادیبوں اور شاعروں کے تجربات اور مشاہدات شامل ہے ان میں محض ایک خاتون ہیں تاہم مرتضی سیال نے کہا کہ یہ صنفی امتیاز نہیں بلکہ محض اتفاق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں سندھ میں زیادہ خواتین ادب کے میدان میں آئی ہیں اور زیادہ اچھا لکھ رہی ہیں۔ امر سندھو، شبنم گل اور عطیہ داؤد اسکی چند مثالیں ہیں۔

’اصل میں مواقع ملنے کی بھی بات ہے نا۔ ہمارے سماج نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ ہماری عورتیں تخلیق کے میدان میں کھل کے اظہار کرسکیں لیکن اس کے باوجود ہماری خواتین کافی آگے آئی ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اب سندھی شاعری کے اظہار میں مزاحمت کے عنصر میں کمی آئی ہے اور اس کی ممکنہ وجہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اور حالات میں بہتری ہو سکتی ہے۔