فلسطینی شاعر کی سزائے موت آٹھ سال قید اور 800 کوڑوں میں تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشرف فیاض اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان پر غلط الزامات عائد کیے تھے

سعودی عرب کی ایک عدالت نے فلسطینی شاعر اشرف فیاض کی سزائے موت ختم کر دی ہے، ان پر اپنا مذہب چھوڑنے کا الزام ہے۔

اشرف فیاض کے وکیل کے مطابق ان کی سزائے موت کو آٹھ سال قید اور 800 کوڑوں کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اشرف فیاض اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایک اور شخص نے ان پر غلط الزامات عائد کیے تھے۔

ان کی سزائے موت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سینکڑوں ادیبوں، اداکاروں اور فنکاروں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اشرف فیاض کے وکیل عبدالرحمان الاہم نے کہا کہ جنوب مغربی شہر ابھا کی عدالت نے یہ فیصلہ بھی سنایا ہے کہ ان کے موکل کو سرکاری میڈیا پر اپنی شاعری سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہوگا۔

وکیل کے مطابق ان کو 16 باریوں میں کوڑے مارے جائیں گے۔

اشرف فیاض کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ نئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اشرف فیاض کو اگست 2013 میں ایک سعودی شہری کی جانب سے لادینیت اور توہین آمیز خیالات کی تشہیر کے الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

انھیں اگلے ہی روز رہا کر دیا گیا تھا تاہم جنوری 2014 میں انھیں دین سے انحراف کے الزامات پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان پر یہ الزامات بظاہر ان کی شاعری کی کلیات ’انسٹرکشنز ود ان‘ سے متعلق ہیں جو سنہ 2008 میں شائع ہوئی تھی۔

ناقدین کے خیال میں انھوں نے اپنی شاعری نے مذہب پر سوالات اٹھائے تھے اور لادینیت کو فروغ دیا تھا۔

خیال رہے کہ 35 سالہ اشرف فیاض فلسطینی پناہ گزیں جوڑے کی اولاد ہیں اور وہ سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے، اور انھیں سعودی عرب کے عصری فنون کا عالمگیر سطح پر متعارف کروانے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں