کراچی ادبی میلہ، ’ادب کم، تفریح زیادہ‘

Image caption میلے میں پہلے دن کے مباحثوں کا آغاز خواجہ سراؤں کو لاحق مخمصوں سے ہوا

کراچی میں ساحل کے ایک الگ تھلگ کنارے پر قائم بیچ لگژری ہوٹل عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ آکسفرڈ پریس یونیورسٹی کی جانب سے یہاں تین روزہ ادبی میلے کا آغاز ہوا ہے۔

یوں تو ہر سال ہونے والا یہ میلہ اس سے پہلے چھ بار بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرواتا رہا لیکن اس سال اس میلے میں شرکت کرنے والے افراد کا رش دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ میلہ محض ادب سے متعلق ہے یا لوگوں کی تفریح و طبع کا ایک سامان مہیا کرنے کے لیے انٹرٹینمنٹ شو ہے ۔

میلے کے پہلے دن چھ کتابوں کی رونمائی کی گئی ۔ یہ تمام کتابیں انگریزی زبان میں ہیں جن میں بھارت سے تعلق رکھنے والے مصنف خشونت سنگھ کی کتاب ’ٹرین ٹو پاکستان‘ بھی شامل تھی اور اسے ہی سب سے زیادہ عوامی پذیرائی بھی ملی ۔

میلے کی افتتاحی تقریب میں تین مصنفین کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ان میں بہترین اردو مصنف کا اعزاز نجیب عارف کو ملا۔ جبکہ عامر حسین بہترین انگریزی فکشن اور عروسہ کنول بہترین نان فکشن اعزاز کی حقدار قرار پائیں۔

Image caption ملکہ پکھراج کی آج سے لگ بھگ ساٹھ سال پہلے کی گئی بی بی سی کی ایک ریکارڈنگ بھی دکھائی گئی

میلے میں پہلے دن کے مباحثوں کا آغاز خواجہ سراؤں کو لاحق مخمصوں سے ہوا۔ جس کے لیے بھارت سے خصوصی طورپرمدعو کی گئی لکشمی نرائن ترپاٹھی نے برصغیر میں ہیجڑوں کے مسائل پر بات کی۔

لکشمی نرائن ترپاٹھی ’میں لکشمی میں ہیجڑا‘ نامی کتاب کی مصنف ہیں۔ لوگوں نے ان کی گفتگو سنی اور ان کی کتاب بھی خریدی جس پر ان کے دستخط حاصل کرنے کے لیے بہت دیر تک عوام کو قطار میں بھی کھڑے ہونا پڑا مگر لکشمی کا کہنا تھا کہ ’میں حیران ہوں کہ اتنے لوگ آئے سب طرح کے سوال بھی کیے گئے لیکن کسی نے میری کتاب سے متعلق مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔‘

اس میلے میں آنے والے زیادہ تر حاضرین جو ادبی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے اسے ایک تفریحی شو قرار دیا۔

کراچی میں رہنے والی صائمہ میمن کا کہنا ہے ’یہ میلہ طالب علموں اور دیگر سکالرز کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہو سکتا ہے لیکن اسے رنگ ایسا دے دیا گیا ہے کہ یہ ادبی کم اور تفریحی میلہ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔‘

Image caption جدید آرٹ کے نمونے بھی نمائش کے لیے پیش کیے گئے

اس میلے میں شریک دیگر لوگوں کا خیال بھی صائمہ میمن سے مختلف نظر نہیں آیا ۔کراچی ہی کے باسی ایک اور شخص عمران احمد نے کہا ’میں ہر سال اس میلے میں شریک ہوتا ہوں لیکن مجھے ادب کی خوشبو سونگھ کر یہاں چلے آنے والے کم اور سیلبریٹیز کو دیکھنے اور ان کے ساتھ سیلفیز کھنچوانے کے شوقین افراد کی تعداد میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔‘

دوسرا مباحثہ جس کا عوام کو شدت سے انتظار تھا اس کا بھی بظاہر ادب سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ برصغیر میں گلوکاری میں نام پیدا کرنے والی ملکہ پکھراج کی یاد میں کیا گیا یہ سیشن انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے رکھا گیا تھا جس میں ان کی بیٹی اور گلوکارہ طاہرہ سید اور ارشد محمود نے شرکت کی۔ اس موقعے پر ملکہ پکھراج کی آج سے لگ بھگ ساٹھ سال پہلے کی گئی بی بی سی کی ایک ریکارڈنگ بھی لوگوں کو دکھائی گئی۔

اس موقع پر طاہرہ سید نے بتایا کہ ملکہ پکھراج کے گانے کو ترجیح دینے کے باعث ایک عرصے تک وہ ان سے ناراض رہیں لیکن پھر خود بھی موسیقی کو اپنا لیا۔ لیکن اپنے خود کے بچوں کے ساتھ وہ بہتر رشتہ رکھنا چاہتی تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے موسیقی کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ طاہرہ سید نے لوگوں کی فرمائش پر ملکہ پکھراج کا مقبول گیت ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ بھی سنایا۔

Image caption مباحثوں میں جدید آرٹ ، پاکستان میں سینیما سے ممکن ہونے والی سماجی تبدیلیوں اور ٹیلی ویژن ڈراموں پر بھی بات کی گئی

دیگر مباحثوں میں جدید آرٹ ، پاکستان میں سینیما سے ممکن ہونے والی سماجی تبدیلیوں اور ٹیلی ویژن ڈراموں پر بھی بات کی گئی۔ ان مباحثوں میں اضعر ندیم سید ، کشور ناہید آصف فرخی، فہمیدہ ریاض، حارث خلیق، سرمد کھوسٹ ، مارجری حسین ، قدوس مرزا، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور مستنصر حسین تارڑ اور بھارت سے آنے والے سیف محمود اور دیگر غیر ملکی افراد شامل تھے۔

میلے کی منتظم اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے بتایا کہ ہندوستان سے 17 لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں سے 15 لوگ پاکستان آئے ہیں۔ اس میلے میں شرکت کے لیے نہ پہنچنے والوں میں انوپم کھیر اور نندتا داس شامل ہیں۔ امینہ سید کا کہنا ہے کہ انوپم کھیر نے پاکستانی ویزا کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جو انھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔

’انوپم کھیر کو مصنف کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا اور ہو سکتا ہے کہ وہ یہاں آ جاتے تو ان کے ذہن میں موجود کچھ غلط فہمیاں بھی دور ہو جاتیں مگر انھوں نے بات کو بالکل ہی الگ رنگ دے دیا جس پر ہمیں بہت حیرانی ہے۔‘

Image caption توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال بھی 50 ہزار سے زیادہ لوگ اس میلے میں شرکت کریں گے

نندتا داس پاکستان کئی بار آ چکی ہیں اور یہاں ہونے والے کئی میلوں میں شریک بھی ہوئی ہیں ۔ اس بار بھی انھیں پاکستان کا ویزا مل گیا تھا مگر پھر بھی وہ کیوں نہیں آئیں۔ اس سوال کے جواب میں امینہ سید نے مسکرا کر کہا ’ان کے تو تمام کاغذات مکمل تھے اور وہ آ رہی تھیں مگر عین وقت پر انھوں نے فون کر کے کہا ’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے!‘ اب میں نہیں جانتی اس بات کا کیا مطلب تھا۔‘

ساتویں بار منعقد ہونے والے اس سالانہ ادبی میلے میں منتظمین کے مطابق پہلے دن لگ بھگ دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال بھی 50 ہزار سے زیادہ لوگ اس میلے میں شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں