لٹریچر فیسٹول: ’بے زبانوں کو آواز دینے کی کوشش‘

’جس ملک میں مکالمے کی اجازت نہیں، وہاں کسی سرکاری یا قومی زبان کی کیا ضرورت؟‘ عارفہ سیدہ زہرا کی اس بات پر کھچاکھچ بھرے ہال میں خوب تالیاں بجائی گئیں۔ یہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن کا ذکر ہے جس کا موضوع ’سرکاری اردو، عوامی اردو‘ تھا۔

لٹریچر فیسٹیول مکالمے کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین فورم ہیں اور گذشتہ تین دن کے دوران کراچی میں بیشتر اہم قومی، معاشرتی اور سیاسی معاملات پر مباحثے ہوئے۔

کسی مسئلے کا کوئی حل تو برآمد نہیں ہوا لیکن یہ کیا کم ہے کہ شرکائے گفتگو نے تمام اختلافی نقطہ ہائے نظر اور تلخ بلکہ بض اوقات ناگوار باتیں حوصلے کے ساتھ سنیں۔

یہ مباحثے سننے کے لیے کراچی کے ہزاروں شہری موجود تھے اور تینوں دن تمام وسیع و عریض ہال اور پنڈال مکمل طور پر بھرے رہے۔

فائیو سٹار ہوٹل میں میلہ لگانا کوئی آسان کام نہیں لیکن کراچی لٹریچر فیسٹیول کے منتظمین یہ کام بہت سلیقے سے کرنا سیکھ چکے ہیں۔ بے شک لٹریچر یعنی گاڑھے ادب پر بہت گفتگو ہوئی اور اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی مشاعرہ ہوا، لیکن اس بار کامیڈی کے کئی پروگرام بھی رکھے گئے، محافل موسیقی کا اہتمام تھا، آرٹ فوٹوگرافی اور فلموں پر کئی سیشن ہوئے، دو فلمیں دکھائی گئیں اور تیسری کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔

اِس سال فیسٹیول کو پہلے دن پہلے سیشن کے بعد ہی ختم کر دیا جاتا تب بھی اِسے مدتوں یاد رکھا جاتا۔ اس دن کی مہمان بھارت کی سب سے ممتاز خواجہ سرا لکشمی نرائن تری پاتھی تھیں۔ اتنی خوش لباس، خوش اطوار، طویل قامت، قبول صورت اور شان دار انگریزی بولنے والے خواجہ سرا اِس سے پہلے کراچی کے شہریوں نے کبھی نہ دیکھی ہوگی۔

Image caption مباحثے سننے کے لیے کراچی کے ہزاروں شہری موجود تھے اور تینوں دن تمام وسیع و عریض ہال اور پنڈال مکمل طور پر بھرے رہے

اس سیشن کی ماڈریٹر کا دھیما انداز جوالا مکھی لکشمی کی تاب نہ لا سکا۔ اُن کے مستور سوالات کے بعد بعض حاضرین نے عریاں سوال کیے لیکن لکشمی نے ایسے بے باکانہ جواب دیے کہ سننے والوں کے کان بند اور منہ کھلے رہ گئے۔

بھارت کی مقبول ٹی وی اینکر برکھا دت نے کئی مجلسوں میں شرکت کی اور ہر بار مودی حکومت کی کھل کر طرف داری کی۔ ان کے خیال میں کشمیر میں سب ٹھیک ہے اور بھارت میں عدم برداشت نہیں بڑھ رہی۔ حاضرین میں سے ایک دل جلے نے کہہ دیا کہ آپ میں نہ مانوں والی ذہنی کیفیت کا شکار ہیں۔

تین دن میں20 کتابوں کی تقاریب اجرا ہوئیں جن میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید، برکھا دت اور ترقی پسند ادیب سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر کی کتابیں شامل ہیں۔

جرمن ادیب سٹیفن کپیٹزکی کے ناول ’رسک‘ کے لیے بھی تقریب ہوئی لیکن دلچسپ بات ہے کہ یہ ناول جرمن زبان میں ہے۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ ابھی نہیں چھپا۔

اس سال فیسٹیول میں شرکت کرنے والے دیگر اہم مہمانوں میں تاریخ داں باربرا ڈی میٹ کاف، برطانوی سکالر ضیاء الدین سردار، سینیئر سفارت کار جمشید مارکر، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، فلمساز شرمین عبید چنائے، ناول نگار کاملہ شمسی، محمد حنیف، دانشور امر جلیل، پرویز ہود بھائی، غازی صلاح الدین، مدیر شکیل عادل زادہ، کالم نویس ندیم فاروق پراچہ، وجاہت مسعود، وسعت اللہ خان، شاعرہ فہمیدہ ریاض، افسانہ نگار زاہدہ حنا، علی اکبر ناطق اور سکالر ناصر عباس نیر جیسے معتبر نام شامل تھے۔

Image caption بھارت کی مقبول ٹی وی اینکر برکھا دت نے کئی مجلسوں میں شرکت کی اور ہر بار مودی حکومت کی کھل کر طرف داری کی

جن مہمانوں کے ناموں کا اعلان ہوا اور وہ نہیں آ سکے، ان میں بھارت سے اداکار انوپم کھیر، نندتا داس، تاریخ داں رخشندہ جلیل اور برطانیہ سے ناول نگار مرزا وحید شامل ہیں۔

ایک شخصیت نے اس بار شرکت نہیں کی لیکن ہر دوسرے سیشن میں اسی کا ذکر کیا گیا وہ تھے انتظار حسین۔

ان کا نام فیسٹیول کے کتابچے میں چھپ گیا تھا۔ بعد میں اس کتابچے کو اپ ڈیٹ کیا گیا لیکن ان کی وفات کے باوجود ان کا نام خارج نہیں کیا گیا۔ جس سیشن میں انتظار حسین کو آنا تھا، اس میں انھیں چاہنے والے آئے اور زہرا نگاہ، افضال احمد، اصغر ندیم سید، آصف فرخی اور مسعود اشعر نے ان کی یادیں تازہ کیں۔

مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انتظار صاحب کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دھوپ بڑھ گئی ہے، سایہ کم ہوگیا ہے۔

لٹریچر فیسٹیول میں ایک ادیب ایسے نظر آئے جو شریک گفتگو نہیں ہوئے لیکن تینوں دن اہم محفلوں میں گفتگو سنتے رہے۔ ان کا نام ڈاکٹر ادیب رضوی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی ممتاز شخصیات عام شہریوں کے ساتھ حاضرین میں بیٹھی نظر آئیں۔ ان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان، سینیئر قانون داں حامد خان اور ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری شامل ہیں۔

Image caption مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انتظار صاحب کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دھوپ بڑھ گئی ہے، سایہ کم ہوگیا ہے

فیسٹیول کے موقع پر کتابوں کے سٹال بھی لگائے جاتے ہیں۔ اِس بار ان کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ فیسٹیول میں شریک مقامی اور غیر ملکی ادیبوں کی بیشتر کتابیں مناسب نرخوں پر دستیاب تھیں۔ ایک سٹال پر ہندوستان میں چھپی ہوئی کتابیں بھی نظر آئیں۔ سیشن بریک کے دوران غیر ملکی مہمان بھی کتابیں خریدتے دیکھے گئے۔

ادبی میلے میں ایک سیشن نور الہدیٰ شاہ کے ساتھ تھا۔ ڈاکٹر آصف فرخی نے ان سے گفتگو کی اور ان کی فرمائش پر نور الہدیٰ شاہ نے ایک افسانہ پڑھ کر سنایا۔ نور الہدیٰ شاہ کی مادری زبان سندھی ہے لیکن انھوں نے طویل افسانے میں تلفظ کی ایک بھی غلطی نہیں کی۔

پھر انھوں نے بتایا کہ اُن کا ایک ڈراما دیکھ کر جمیل الدین عالی نے فون کیا، اُن کے سکرپٹ کی تعریف کی اور اِس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ اہلِ زبان نہیں ہیں۔ نور الہدیٰ شاہ نے جواب دیا، ’جی ہاں، میں بے زبان ہوں۔‘

کراچی لٹریچر فیسٹیول نے اس سال خواجہ سراؤں، نسلی اور مذہبی اقلیتوں اور تھرپارکر کے بے زبانوں کو آواز دینے کی کوشش کی ہے۔ کاش کسی کے پاس سننے کے لیے کان بھی ہوں۔

اسی بارے میں