جگت بجیا چلی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE
Image caption بجیا نے اپنے لیے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی سلطنت چنی اور اس پر جم کے حکومت بھی کی

ایسا لگ رہا ہے کہ گذشتہ برس جولائی سے اب تک کے آٹھ ماہ کے دوران آسمانوں پر بلاوے کی طلب اتنا زور پکڑ گئی ہے کہ یہ جملہ بھی کام نہیں کر پارہا ہے کہ ’ان کی رحلت کا خلا برسوں پُر نہیں ہوگا‘۔

ذرا سوچیے پچھلے آٹھ ماہ کے دوران کیسے کیسے نادر لوگ مرگِ انبوہ میں گم ہوگئے۔ عبداللہ حسین، جمیل الدین عالی، کمال احمد رضوی، اسلم اظہر، نسرین انجم بھٹی، ندا فاضلی، انتظار حسین اور کل ( دس فروری ) فاطمہ ثریا بجیا بھی چلی گئیں۔

بجیا نے اپنی 85 سالہ زندگی میں کیا کیا نہیں دیکھا۔ حیدرآباد دکن کا تہذیبی و سیاسی زوال، ایک محفوظ حویلی کی بانہوں سے نکل کے کراچی کی ہجرتی بے سرو سامانی، چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال۔ ہجرت کے سانپ اور سیڑھی والے کھیل سے ہار نہ ماننے والی بجیا نے سفید پوشی سے اپنے اور اپنے بہنوں بھائیوں کے لیے رفتہ رفتہ آسودگی کا نور کاڑھ ہی لیا۔ کوئی بیورو کریٹ بنا (احمد مقصود حمیدی) ، کوئی فیشن ڈیزائنر ( مسز کاظمی ) ، کوئی صدا کار و اداکار و صحافی و ڈرامہ نگار ( انور مقصود )، تو کوئی بی بی سی اردو کا ہو رہا ( سارہ نقوی ) ، تو کسی نے شاعری میں جھنڈے گاڑ دئیے ( زہرہ نگاہ ) ، تو کسی نے کوکنگ کے کلاسیکی فن کو جدید تہذیبی تڑکا لگا کے اسے چھوٹی اسکرین کے ذریعے گھر گھر عام کر دیا ( زبیدہ طارق عرف زبیدہ آپا )۔

اور بجیا نے اپنے لیے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی سلطنت چنی اور اس پر جم کے حکومت بھی کی۔ آٹھ سے دس ناول لکھے جن کے مسودے آج بھی شائع ہونے کے لیے بے کل ہیں۔ بس ایک ناول چھپ سکا جو چودہ برس کی لکھارن کے والد نے حیدرآباد دکن میں شائع کروایا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے بنیادی لوگوں میں سے ایک آغا ناصر بتاتے ہیں کہ سنہ 1966 میں جب ٹی وی نشریات پاؤں پاؤں چل رہی تھیں اور سارا نشریاتی کاروبار لائیو تھا۔ اچانک ورکرز نے پی ٹی وی مرکز لاہور میں ہڑتال کردی۔ آغا صاحب کے طوطے اڑ گئے۔ عین اس وقت بجیا کمرے میں داخل ہوئیں اور فرمائش کی کہ بیٹا مجھے ذرا ٹی وی سینٹر تو دکھا دو۔ آغا صاحب نے کہا اس شرط پہ دکھاؤں گا کہ یہ مسودہ لیجیے اور اس میں سے یہ والا کردار آپ آج شام کی نشریات میں ادا کیجیے کیونکہ اصل کردار ہڑتال پر ہے۔ یوں بجیا نے اس شام لائیو اداکاری بھی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption بجیا نے شمع کے بعد افشاں، عروسہ، انا، زینت اور آگہی جیسی سیریلز اور کئی انفرادی کھیل لکھے

سن 74 میں بجیا نے اے آر خاتون کے ناول شمع کی ڈرامائی تشکیل کی اور پاکستانی ٹی وی ڈرامے کو بڑی کاسٹ، روایتی مشرقی گھریلو کاسٹیوم، مڈل کلاس کی خاندانی نوک جھونک اور چلمنی معاشقوں کے شادی بیاہ میں بدلنے کے کلاسیکی مناظر سے مرصع کئی سیریلز دیے۔ شمع کے بعد افشاں، عروسہ، انا، زینت اور آگہی جیسی سیریلز اور کئی انفرادی کھیل۔ چل سو چل۔۔۔

ان سیریلز میں کرداری ادب آداب، زبان کا برتاؤ، کنگا جمنی رسومات، پرانے لباس و اطوار کی تازہ اپچ نے پاکستانی اردو تہذیب کی تشکیل میں عوامی سطح پر جو اثرات چھوڑے ان کا ذائقہ آج بھی ویسا ہی برقرار ہے۔ اگر بجیا نہ ہوتیں تو پاکستانی شادیوں میں مہندی کی رسم کا لباسی، دہنی، ذہنی و دیدنی تزک و احتشام ایسا نہ ہوتا کہ آج مہندی کا فنکشن شادی کے فنکشن سے بھی زیادہ رنگین و اہم ہوتا ہے۔

بجیا کا تعلق قدامت پسند کلاسیکل تہذیب سے تھا۔ مگر وہ کٹھ ملانی نہیں تھیں۔ جنرل ضیا کے دور میں جب ٹی وی ڈراموں پر دوپٹہ پالیسی لاگو ہوئی اور موسیقی کے اندر سے بھی موسیقی نکال لی گئی تو بجیا نے روٹھ کر گھر بیٹھ جانے یا پھر ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا حصہ بننے کے بجائے اس جبر کو بھی اپنے حق میں نہایت ذہانت سے استعمال کرلیا۔ یعنی قرطبہ اور بغداد کے تہذیبی و درباری ماحول کے پردے میں وہ سب کچھ دکھا دیا جو انہیں ضیائی ماحول میں دکھانے سے روکا جا رہا تھا۔ سب نے اوپر تلے واہ واہ بھی کی۔ کیونکہ قرطبہ اور بغداد میں جو تہذیبی چمک دمک اور پرفارمنگ آرٹ و فنونِ لطیفہ کی پذیرائی تھی وہ بھی بہرحال برِ صغیری دانش میں گم کشتہ مسلمان تہذیب کا ہی حصہ تھی۔ لہذا کون خلیفہ کے روبرو زرق برق کنیزوں کے لباسوں اور غنائیت کی تھرکن پر انگلی اٹھا سکتا تھا۔

بجیا کا تکیہ کلام تھا بیٹا۔ ایک بار تو عالی صاحب کو بھی عادتاً بیٹا کہہ کے مخاطب کیا تو عارضی خفا ہوگئے۔ بجیا کے لیے رنگی و نسلی و مذہبی و تہذیبی امتیاز اجنبی پرندے تھے۔ انھوں نے پی ٹی وی پر ’اوراق‘ کے عنوان سے دو برس تک مقامی ادبی و تہذیبی پروگرام کی میزبانی بھی کی۔

ان کو کسی لڑکے اور لڑکی کی بغرضِ ملازمت سفارش سے کبھی عار نہیں رہا۔ اکثر وہ اس کام میں بھاگ دوڑ کے دوران ہلکان بھی ہو جاتی تھیں۔ آخری عمر میں سرطانی بیماری بھی انہیں ایسے فی سبیل اللہ کاموں سے نہ روک پائی۔ بقول انور مقصود بجیا کی فطرت میں ’نہیں‘ تو تھا ہی نہیں۔ حکومتِ پاکستان نے بجیا کو پرائڈ آف پرفارمنس اور پھر ہلالِ امتیاز سے نواز کر اور حکومتِ جاپان نے اعلی سول ایوارڈ عطا کرکے اور حکومتِ سندھ نے کچھ عرصے کے لیے مشیرِ تعلیم و ثقافت مقرر کر کے اپنی توقیر میں اضافہ کیا۔

راستو کیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے

میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے

اسی بارے میں