کوئٹہ کے ہزارہ شاعروں کا الم

Image caption ایک خاتون مری آباد کے قبرستان سے گزر رہی ہیں

کوئٹہ میں ایک عرصے سے فارسی شاعری کا چلن رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں کے نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے بعد وہاں مقیم ہزارہ برادری نے فارسی شاعری کو اپنے المیے کے اظہار کا ذریعہ بنا کر اس روایت کو ایک نئی سمت عطا کر دی ہے۔

نپرس از وضع و احوالِ کنونم

گرفتارِ غم و درد و جنونم

غزالِ خستہ ای در وادیِ گرگ

ہزارہ در بلوچستان خونم

ترجمہ: میرے حال کی حالت نہ پوچھو

میں غم و درد و جنون میں مبتلا ہوں

جیسے ہرن بھیڑیوں کی وادی میں

بلوچستان میں ہزارہ خون میں لت پت ہیں

یہ اشعار کوئٹہ کے فارسی شاعر عزیز فیاض کے ہیں۔ آج کوئٹہ میں درجنوں شاعر فارسی زبان میں شاعری کر رہے ہیں اور وہاں باقاعدگی سے منعقد ہونے والی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک شاعر جواد موسوی ہیں جو شاعری تو خاصے عرصے سے کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ گیارہ بارہ برس سے کوئٹہ کی ہزارہ برادری نشانے پر ہے۔ چونکہ شاعر اور ادیب معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتے ہیں، اس لیے لازمی طور پر انھوں نے اس کا اثر قبول کیا اور اسے شعری اظہار کا حصہ بنا دیا۔‘ ان کا شعر ہے:

خونِ او تاثیر دارد بر محیطِ زندگی

مژدۂ آزادی آرد نورِ ایمانِ شہید

ترجمہ: اس کے خون کی تاثیر زندگی پر محیط تھی

شہید کے نور کا ایمان آزادی کی خوشخبری ہوا کرتا ہے

Image caption جواد موسوی اپنا کلام سناتے ہوئے

جواد موسوی نے کہا کہ فارسی شعرا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں مری آباد اور سعید آباد میں بہت سے شاعر ہیں جو محافل میں شرکت کرتے ہیں، جہاں شاعروں کی تعداد 40 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے علاوہ ہزارہ برادری کو ایک اور المیے کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، اور وہ ہے خاندانوں کا بکھراؤ۔ علی بابا تاج فارسی اور اردو کے شاعر ہیں۔ وہ بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے لیکن حالات کے پیشِ نظر انھیں نوکری چھوڑنا پڑی۔

وہ کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں ہونے والے تشدد کے سلسلے کے نتیجے میں ہزارہ برادری کو ایک نقصان یہ بھی اٹھانا پڑا ہے کہ بہت سے لوگ وہاں سے ہجرت کر کے ملک کے دوسرے حصوں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی چلے گئے ہیں جن سے خاندانوں کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’اس کے سماجی اثرات کے علاوہ ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ ’برین ڈرین‘ کی وجہ سے ثقافتی ارتقا کا عمل سست پڑ گیا ہے۔‘

ان کی نظم کا ایک حصہ دیکھیے:

از درد ننالیم

باید از بی دردی نالید

کسی ھست دوری خانہ ای دور بزند

کآنجا امروز باز خونی رنگ گرفتہ است

ترجمہ: میں درد کے مارے نہ روؤں

مجھے تو بےدردی کی وجہ سے رونا چاہیے

کوئی ہے جو اس گھر کے گرد چکر کاٹے

کہ وہاں آج پھر خون نے رنگ پکڑ رکھا ہے

Image caption علمدار روڈ جہاں بم دھماکے میں سینکڑوں ہزارہ مارے گئے ہیں

گذشتہ برس کوئٹہ کے فارسی شعرا کی تخلیقات پر مبنی ایک کتاب شائع ہوئی، ’این جا کویتہ است۔‘ مرتب محمد حسین فیاض نے اس کتاب میں 34 شعرا کی تخلیقات شامل کی ہیں جنھوں نے ہزارہ برادری کے المیے کو موضوع بنایا ہے۔ اس کتاب میں کئی شاعرات بھی شامل ہیں، جن میں سے ایک مریم احمدی ہیں:

کویتہ شہرِ دفنِ آرزوہای پدر جان شد

بنای نقشہ ہای مادرم با خاک یکسان شد

کوئٹہ شہر میں میرے ابو کی آرزوئیں دفن ہیں

وہیں میری ماں کے نقوش بھی خاک میں مل گئے

دو سال قبل کوئٹہ کے علمدار روڈ پر خوفناک بم دھماکے ہوئے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔ کوئٹہ کے کئی شعرا نے علمدار روڈ کو علامت بنا کر اس واقعے کے بارے میں لکھا ہے۔ ان میں سے ایک سلطان علی زکی ہیں۔

رودِ علمدار رود و کبوتر ہای چاھی

رودِ علمدار و بہ خاک افتادہ ماھی

رودِ علمدار و نگاہ سرد انسان

بال و پرِ پروانہ ہا با اشک راھی

ترجمہ: علمدار روڈ اور کنویں کے کبوتر

علمدار روڈ اور خاک پر مچھلی

علمدار روڈ اور انسان کی سرد نگاہ

پروانے کے بال و پر اشکوں میں بہہ گئے

Image caption مری آباد کے قبرستان میں فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بننے والوں کے ایک الگ حصہ قائم کیا گیا ہے

ہادی میران بھی ہزارہ شاعر ہیں جو اب جا کر جرمنی میں آباد ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

تو را کہ ماہ پارہ می نویسم

بہ دشت شب ستارہ می نویسم

ولی در این بلوچستان دوری

میان خون ہزارہ می نویسم

ترجمہ: تجھے جو میں ماہ پارہ لکھتا ہوں

رات کے دشت میں ستارہ لکھتا ہوں

لیکن اس وقت بلوچستان میں

(اے) ہزارہ تجھے میں خون میں ڈوبا لکھتا ہوں

اسی دوران کوئٹہ کے شاعر اردو میں بھی شاعری کر رہے ہیں۔ خوش فکر شاعر محسن چنگیزی کو صدارتی تمغۂ امتیاز بھی مل چکا ہے۔ ان کا ایک شعر دیکھیے:

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی

میں نے جلتے ہوئے خوابوں کی عزاداری کی

محسن کے علاوہ کوئٹہ میں اردو کے اور بھی کئی شاعر موجود ہیں۔ اس سلسلے میں نمائندہ اشعار طالب حسین طالب کے ہیں:

کیا تھا عشق سو ترتیب وار مارے گئے

اس ایک جرم میں ہم بار بار مارے گئے

بہار آئے تو شاخوں پہ پھول گن لینا

میں کیا بتاؤں مرے کتنے یار مارے گئے

اسی بارے میں