روبن گھوش ہمیشہ کےلیے روٹھ گئے

سردیوں کے دن تھے۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ میں یونہی بےمقصد گھومتے گھومتے اسلام آباد کے ایک چرچ کے سامنے سے گزرا۔ اندر سے ایک شہد بھری دھن سرد ہوا میں تیرتی ہوئی میرے کانوں تک پہنچی، اور میرے قدم بےاختیار چرچ کے دروازے کی طرف کھنچتے چلے گئے۔

اندر جاتے ہوئے تھوڑی جھجھک محسوس ہوئی، لیکن نغمے کی طرز سروں کے کسی ازلی سرچشمے سے پھوٹی ہوئی لگتی تھی، جس نے مجھے مقناطیس کی طرح کھینچا اور میں نیم تاریک چرچ میں داخل ہو گیا۔ وہاں کئی درجن مرد، عورتیں اور بچے موجود تھے اور سامنے ایک شخص ہارمونیم پر ایک عجیب سرمستی سے گا رہا تھا، ’پیار بھرے دو شرمیلے نین، جن سے ملا میرے دل کو چین۔‘

یہ اپنے دور کے مقبول ترین پاکستانی موسیقار روبن گھوش تھے۔

روبن گھوش نے 1962 میں فلم ’چندا‘ کے ذریعے جب پاکستان کی فلم انڈسٹری میں اپنے پر کھولے، اس وقت وہاں بڑے موسیقاروں کا راج تھا اور غلام حیدر، فیروز نظامی، خورشید انور، رشید عطرے، بابا چشتی جیسے اپنے سُر بکھیر رہے تھے۔ ایسے میں کسی نوجوان کا قدم جمانا آندھی میں چراغ جلانے کے مترادف تھا۔ لیکن 23 سالہ روبن گھوش کے پاس محنت، لگن اور اپنے فن سے محبت جیسا زادِ راہ موجود تھا۔ چنانچہ اگلے ہی سال انھوں نے فلم ’تلاش‘ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر سال کے بہترین موسیقار کا نگار ایوارڈ حاصل کر لیا۔

اس فلم کے گیت ’کچھ اپنی کہیے، کچھ میری سنیے‘ میں روبن گھوش نے طبلے اور ستار کی آمیزش سے ایک سادہ لیکن جادو اثر دھن تیار کی جو آج بھی دلوں کو مٹھاس سے بھر دیتی ہے۔

اس کامیابی کے بعد بھی روبن گھوش کی تلاش جاری رہی اور آنے والے برسوں میں ان کے گیتوں میں آرکسٹرا کا استعمال بڑھتا گیا۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں روبن گھوش بیسویں سازندوں پر مشتمل آرکسٹرا کو جس عمدگی اور خوبی سے اپنے گیتوں میں سموتے تھے کم از کم پاکستان کی فلمی موسیقی میں اس میدان میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption روبن گھوش کے کچھ اور مقبول گیت آج بھی ریڈیو پر گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں

روبن گھوش کی موسیقی میں ایک خاص قسم کی ندرت اور جدت پائی جاتی تھی۔ ان کی موسیقی کا ٹیمپو اور ردھم ایک نرالی شوخی لیے ہوتا ہے، جو فوراً اپنی شناخت کروا دیتا ہے کہ اسے روبن گھوش نے تخلیق کیا ہے۔ اس کی ایک مثال اخلاق احمد کا گایا ہوا نغمہ ’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل‘ ہے۔ اس کے بول قافیہ ردیف کے استعمال سے مبرا آزاد نظم نما ہیں، اور بظاہر اسے کمپوز کرنا بےحد مشکل کام نظر آتا ہے، لیکن روبن گھوش نے جس فنکارانہ چابکدستی سے ان بولوں کو میلوڈی بنایا ہے وہ داد سے ماورا ہے۔

روبن گھوش کے کریئر کی معراج 1977 کی فلم ’آئینہ‘ میں نظر آتی ہے۔ ان کی لازوال دھنوں نے اس فلم کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے سپر ہٹ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فلم کے یہ گانے موسیقی کے ہر شائق کے لبوں پر ہیں: ’کبھی میں سوچتا ہوں،‘ (مہدی حسن)، ’مجھے دل سے نہ بھلانا،‘ (مہدی حسن، مہناز)، ’روٹھے ہو تم، تم کو میں کیسے مناؤں پیا‘ (نیرہ نور)، ’وعدہ کرو ساجنا‘ (عالمگیر، مہناز)، ’حسین وادیوں سے پوچھو‘ (مہناز، اخلاق احمد)۔

روبن گھوش کے کچھ اور مقبول گیت آج بھی ریڈیو پر گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ان میں ’کبھی تو تم کو یاد آئیں گے‘ (احمد رشدی)، ’مجھے تلاش تھی جس کی‘ (احمد رشدی)، ’ساون آئے ساون جائے‘ (اخلاق احمد)، ’دیکھو یہ کون آ گیا،‘ (اخلاق احمد) اور ’اچھا اچھا لاگے رے‘ (نیرہ نور) وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم میرا خیال ہے کہ روبن گھوش نسبتاً سلو آہنگ والے گیتوں میں زیادہ آسانی سے اپنے فن کو بلندیوں کو چھو لیتے ہیں۔ اس کی سب سے عمدہ مثال فلم ’شرافت‘ کا گیت ’تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے‘ (مہدی حسن، نیرہ نور) ہے، جس میں مہدی حسن کی مدھرتا، روبن گھوش کی دل کش بندش کا حسن، گیت فلمانے کی لوکیشن اور فوٹوگرافی نے وہ سماں باندھا ہے کہ لہریں تو کیا، سارا عالم ہی مستانہ ہو جاتا ہے۔

میں نے شروع میں جس گیت کا ذکر کیا، اسے اصل میں تو فلم ’چاہت‘ کے لیے مہدی حسن نے گایا ہے، لیکن ایک زمانہ قبل سردیوں کی اس بھیگی بھیگی سہ پہر میں نیم تاریک چرچ میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو کر خود اس گیت کے تخلیق کار روبن گھوش کی آواز میں اس گیت کے سننے کا جو لطف آیا، اس کا رس ابھی تک کانوں میں گھلا ہوا ہے۔

اسی بارے میں